سواری پر کھانے پینے کا سامان لادے سفر کررہا ہو اور وہاں آرام کی غرض سے رک جائے، وہ سررکھے تو اسے نیند آجائے، جب سوکر اٹھے تو اس کی سواری مع سامان کے غائب ہو اور وہ اس کی جستجو میں نکلے یہاں تک کہ شدتِ گرمی اور پیاس سے بدحال ہو کر اسی جگہ واپس آجائے جہاں وہ پہلے سویا تھا اور موت کے انتظار میں اپنے بازو کا تکیہ بناکر لیٹ جائے، اب جو وہ جاگا تو اس نے دیکھا اس کی سواری مع سامان اس کے قریب موجود ہے۔ اللہ تَعَالٰی کو بندہ کی توبہ سے اس سواری والے شخص سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا سامان جاگنے کے بعد اس کو مل گیا ہے۔(1)
حضرتِ حسن رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی توبہ قبول فرمائی تو فرشتوں نے انہیں مبارک باد پیش کی، جبریل و میکائیل علیہماالسلامحاضر ہوئے اور کہا: اے آدم! آپ نے توبہ کر کے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرلیا۔ آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اگر اس توبہ کی قبولیت کے بعد رب سے پھر سوال کرنا پڑا تو کیا ہوگا؟ اللہ تَعَالٰی نے آدم عَلَیْہِ السَّلَام پر وحی نازل فرمائی کہ اے آدم! تو نے اپنی اولاد کو محنت اور دکھ تکلیف کا وارث بنایا اور ہم نے انہیں توبہ بخشی، جو بھی مجھے پکارے گا میں تیری طرح اس کی پکار کو سنوں گا، جو مجھ سے مغفرت کا سوال کرے گا میں اسے ناامید نہیں کرونگا کیونکہ میں قریب ہوں ، دعاؤں کو قبول کرنے والا ہوں ، میں توبہ کرنے والوں کو ان کی قبروں سے اس طرح اٹھاؤں گا کہ وہ ہنستے مسکراتے ہوئے آئیں گے، ان کی دعائیں مقبول ہونگی۔
فرمانِ نبوی ہے: اللہ تَعَالٰی کا دستِ رحمت رات کے گنہگاروں کے لئے صبح تک اور دن کے گنہگاروں کے لئے رات تک دراز رہتا ہے اس وقت تک کہ جب مغرب سے سورج طلوع ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا(2)(یعنی قیامت تک اللہ تَعَالٰی بندوں کی توبہ قبول فرمائے گا۔)
رسول خدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کا ارشادِ گرامی ہے کہ اگر تم نے آسمان کے برابر گناہ کرلئے اور پھر شرمندہ ہوکر توبہ کرلی تو اللہ تَعَالٰی تمہاری توبہ قبول کرلے گا۔(3)
فرمانِ نبوی ہے، آدمی گناہ کرتا ہے پھر اسی گناہ کے سبب جنت میں داخل ہوتا ہے پوچھا گیا حضور وہ کیسے؟ آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم کتاب التوبۃ، باب فی الحض۔۔۔الخ، ص ۱۴۶۸، الحدیث ۳۔ (۲۷۴۴)ملخصًا
2…مسلم کتاب ، التوبۃ، باب قبول التوبۃ۔۔۔الخ، ص ۱۴۷۵، الحدیث ۳۱۔ ( ۲۷۵۹)
3…ابن ماجہ، کتاب الزھد، با ب ذکر التوبۃ، ۴/۴۹۰، الحدیث ، ۴۲۴۸، بتغیر قلیل