Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
115 - 676
	حضرت عمرو بن دینار رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ  ابوجعفر رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا، اس نے جنت کا راستہ کھودیا۔(1)
اَمَانت کی تعریف:
	’’امانت‘‘ امن سے ماخوذ ہے اور کوئی شخص حق کو چھوڑ کرمامون نہیں رہتا، امانت کی ضدخیانت ہے جو خون سے مشتق ہے جس کا معنی ہے کم کرنا، کیونکہ جب تم کسی چیز میں خیانت کروگے تو اس میں کمی واقع ہوجائے گی۔
امانت کے بارے میں ارشاداتِ نبوی:
	حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کا ارشاد ہے کہ دھوکہ، فریب اور خیانت، جہنمیوں کا شیوہ ہے۔(2)
	 مزید ارشاد فرمایا کہ جس نے لوگوں کے ساتھ معاملات میں ظلم نہیں کیا اور ان سے جھوٹی باتیں نہیں کہیں ، اس کی مرادیں مکمل ہوگئیں ، عدالت ظاہر ہوگئی اور اس سے بھائی چارہ رکھنا ضروری ہوگیا۔(3)
	ایک اعرابی، قوم کی تعریف میں کہتا ہے: وہ امین ہیں کسی کے ساتھ دھوکہ نہیں کرتے، کسی مسلمان کی حرمت کو پامال نہیں کرتے اور ان کے ذمہ کسی کا حق باقی نہیں ہے، وہ بہترین قوم ہیں ۔ 
	اعرابی کے ممدوحین گزر چ کے ہیں ، اب تو انسانی لباس میں بھڑیئے پھرتے ہیں ، جیسے کسی نے کہا ہے:    ؎
بمن یثق الا نسان فیما ینوبہ		ومن این للحرالکریم صحاب
وقدصارھذا الناس الا اقلہم		ذئابا علی اجسادھن ثیاب
{1}…اس شخص کے لئے جو انسان پر اس کی انابتوں کے باوجود بھروسہ کرتا ہے تو پھر عزت دار آزاد شخص کے لئے ٹھکانا کہاں رہے گا۔
{2}…چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب انسانی لباس میں بھیڑیئے ہیں ۔ 
	ایک اور شاعر کہتا ہے:    ؎
ذھب الذین یقال عند فراقہم		لیت  البلاد  وما  بھا  تتصدع
٭…وہ لوگ چلے گئے جن کے فراق میں کہا جاتا تھا، کاش ! یہ شہر ویران ہوجاتے اور قیامت آجاتی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ابن ماجہ ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱/۴۹۰، الحدیث ۹۰۸
2…المستدرک للحاکم کتاب الاھوال ، باب تحشرھذہ الامۃ۔۔۔الخ،۵/۸۳۳ ، الحدیث ۸۸۳۱
3…فردوس الاخبار، ۲/۲۷۳، الحدیث ۵۹۵۴