Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
114 - 676
باب:17
امانت اور توبہ
فضیلت درود پاک:
	حضرت محمد بن منکدر رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سفیان ثوری رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ نے طوافِ کعبہ کرتے ہوئے ایک ایسے جوان کو دیکھا جو قدم قدم پر درود شریف پڑھ رہا تھا۔ سفیان ثور ی کہتے ہیں : میں نے کہا: اے جوان! تم تسبیح و تہلیل چھوڑ کر صرف درود شریف ہی پڑھ رہے ہو کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ جوان نے پوچھا: آپ کون ہیں ؟ میں نے جواب دیا: سفیان ثوری! اس نے کہا: اگر آپ کا شمار اللہ تَعَالٰی کے نیک بندوں میں نہ ہوتا تو میں کبھی بھی آپ کو یہ راز نہ بتاتا! ہُوایوں کہ میں اپنے باپ کے ہمراہ حج کے ارادہ سے نکلا، راستہ میں ایک جگہ میرا باپ سخت بیمار ہوگیا،میں نے بہت کوشش کی مگر اسے موت سے نہ بچا سکا، موت کے بعد ان کا چہرہ سیاہ ہوگیا، میں نے ’’ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ
 ‘‘ پڑھ کر ان کا چہرہ ڈھک دیا، اسی غم کی کیفیت میں میری آنکھیں بوجھل ہوگئیں اور مجھے نیند آگئی۔ خواب میں میں  نے ایک ایسے حسین کو دیکھا جو حسن میں بے مثال تھا، اس کا لباس نفاست کا آئینہ دار تھا اور اس کے وجودِ مسعود سے خوشبو کی لپیٹیں اٹھ رہی تھیں ، وہ نازک خرامی کے ساتھ آیا اور میرے باپ کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر ہاتھ سے چہرے کی طرف اشارہ کیا میرے باپ کا چہرہ سفید ہوگیا جب وہ واپس تشریف لیجانے لگے تو میں نے دامن تھام کر عرض کی، اللہ تَعَالٰی نے آپ کے طفیل اس غریب الوطنی میں میرے باپ کی آبرو رکھ لی، آپ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: تم مجھے نہیں پہچانتے؟ میں صاحب قرآن اللہ کا نبی محمد بن عبداللہ ہوں (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) ۔ تیرا باپ اگرچہ بہت گنہگار تھا مگر مجھ پر کثرت سے درود بھیجتا تھا، جب اس پر مصیبت نازل ہوگئی تو اس نے مجھ سے مدد طلب کی اور میں ہر اس شخص کا جو مجھ پر کثرت سے درود بھیجتا ہے، فریاد رس ہوں ۔ جوان نے کہا: اس کے بعد اچانک میری آنکھ کھل گئی، میں نے دیکھا میرے باپ کا چہرہ سفید ہوچکا تھا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… روح البیان ، پ ۲۲، الاحزاب تحت الایۃ ۵۶، ۷/۲۲۵