Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
113 - 676
حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے جمعرات کے دن مکہ سے ہجرت کی، تین راتیں غارِ ثور میں گزار کر یکم ربیع الاوّل شب دوشنبہ کو وہاں سے روانہ ہوئے اور ۱۲ ربیع الاوّل کو مدینہ طیبہ پہنچے۔ 
	’’زکریا‘‘ نام کا ایک مشہور زاہد گزرا ہے، شدید بیماری کے بعد جب اس پر سکرات کا عالم طاری ہوا تو اس کے دوست نے اسے کلمہ کی تلقین کی مگر اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا، دوست نے دوسری مرتبہ تلقین کی لیکن اس نے ادھر سے ادھر منہ پھیر لیا۔ جب اس نے تیسری مرتبہ تلقین کی تو اس زاہد نے کہا: میں نہیں کہتا، دوست یہ سنتے ہی بیہوش ہوگیا۔ کچھ دیر بعد جب زاہد کو کچھ افاقہ ہوا، اس نے آنکھیں کھولیں اور پوچھا :تم نے مجھ سے کچھ کہا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ، میں نے تم کو کلمہ کی تلقین کی تھی مگر تم نے دو مرتبہ منہ پھیر لیا اور تیسری مرتبہ کہا: ’’میں نہیں کہتا‘‘ زاہد نے کہا: بات یہ ہے کہ میرے پاس شیطان پانی کا پیالہ لے کر آیا اور دائیں طرف کھڑا ہوکر مجھے وہ پانی دکھاتے ہوئے کہنے لگا تمہیں پانی کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا: ہاں ! کہنے لگا :کہو! عیسٰی اللہ کے بیٹے ہیں ۔ میں نے منہ پھیر لیا تو دوسرے رخ کی طرف سے آکر کہنے لگا، میں نے پھر منہ پھیر لیا۔ جب اس نے تیسری مرتبہ ’’عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں ‘‘ کہنے کو کہا تو میں نے کہا :میں نہیں کہتا، اس پروہ پانی کا پیالہ زمین پر پٹخ کر بھاگ گیا۔ میں نے تویہ لفظ شیطان سے کہے تھے، تم سے تو نہیں کہے تھے اور پھر کلمۂ شہادت کا ذکر کرنے لگا۔
	حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے کہ کسی نے اللہ تَعَالٰی سے سوال کیا :مجھے انسانی دل میں شیطان کی جگہ دکھا دے، خواب میں اس نے شیشہ کی طرح صاف شفاف ایک انسانی جسم دیکھا جو اندر باہر سے یکساں نظر آرہا تھا، شیطان کو دیکھا وہ اس انسان کے بائیں کندھے اور کان کے درمیان مینڈک کی صورت میں بیٹھا ہوا تھا اور اپنی طویل سونڈ سے اس کے دل میں وسوسے ڈال رہا تھا۔ جب وہ انسان اللہ کا ذکر کرتا تو وہ فوراً ہی پیچھے ہٹ جاتا ۔
اے ربِ ذوالجلال! ختم المرسلین صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کے طفیل ہمیں شیطانِ مردود کے تسلط سے بچا، ہمیں حاسد زبان
سے نجات بخش اور اپنے ذکرو شکر کی توفیق عنایت فرما۔(آمین بجاہِ سَیِّدِالْمُرَْسَلِیْن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
= اللہُ عَنْہ سے فرمایا: کیا تم نے ابوبکر کی شان میں بھی کچھ لکھا ہے؟ انہوں نے عرض کیا:ہاں یارسول اللہ، حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم      نے فرمایا: سناؤ تو حضرت حسان رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے یہی اشعار عرض کیے۔ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم      سن کر اس قدر مسکرائے کہ دندانِ مبارک ظاہر ہوئے اور ارشاد فرمایا:حسان تم نے سچ کہا،وہ ایسے ہی ہیں جیسے تم کہتے ہو۔ (تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر،ج۳۰،ص۹۱)۔ علمیہ