Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
112 - 676
 آپ کو کوئی تکلیف پہنچے۔ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا: کیا تم خطرہ کی صورت میں میرے آگے مرنا پسند کرتے ہو؟ عرض کی: رب ذُوالْجَلَال کی قسم !میری یہی آرزو ہے۔(1) (سبحان اللہ! سبحان اللہ!)
	جب غار کے قریب پہنچے تو حضرتِ ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے کہا: حضور ٹھہرئیے! میں غار کو صاف کرتا ہوں اور اندر پہنچ کر ہاتھوں سے ٹٹول ٹٹول کر غار کو صاف کرنا شروع کیا جہاں کہیں کوئی سوراخ نظر آتا وہاں کپڑا پھاڑ کر اس کو بند کردیتے یہاں تک کہ سارا کپڑا ختم ہوگیا اور ایک سوراخ باقی رہ گیا، وہاں آپ نے اپنے پاؤں کا انگوٹھا رکھ دیا تاکہ کوئی چیز حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو تکلیف نہ دے۔ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم غار میں داخل ہوئے اور ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ کی گود میں سر رکھ کر سوگئے۔ حضرتِ ابوبکر کو اس سوراخ سے سانپ نے ڈس لیا مگر آپ نے پیرکو جنبش نہ دی کہ مبادا حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی آنکھ کھل جائے اور آپ کی نیند میں خلل پڑے۔ شدتِ تکلیف سے آپ کے آنسو حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کے چہرے پر پڑے تو حضور کی آنکھ کھل گئی، پوچھا: ابوبکر !کیا بات ہے؟ عرض کی: حضور! سانپ نے ڈس لیا ہے، حضور صَلَّی اللہ  عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے لعابِ دہن لگایا تو زہر کا اثر جاتا رہا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دلائل النبوۃ،للبیھقی، باب خروج النبی۔۔۔الخ ، ۲/۴۷۶، ۴۷۷( بتغیر قلیل وبلا حسن).
2…مشکاۃالمصابیح،کتاب المناقب،باب    مناقب ابی بکر رضی اللہ عنہ،۲/۴۱۷،الحدیث۶۰۳۴وتاریخ مدینۃ دمشق ،۳۰/۸۰
3… ہمارے پیش نظر ’’ مکاشفۃ القلوب ‘‘ کے دو مطبوعوںمیں اس مقام پر یہ اشعار ہیں :
و ثانی اثنین فی الغار المنیف و قد		طاف العدو بہ اذ صاعد الجبلا
و کان حب رسول اللہ  قد علموا		من  الخلائق  لم  یعدل  بہ  بدلا
{1}…اس با مقدرغار میں حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ صرف صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ تھے جب دشمن پہاڑ پر چڑھ رہے تھے ۔
{2}…اور صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم   یہ جانتے تھے کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم      کے محبوب ہیں اور آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم     کی بارگاہ میں کسی کارُتبہ ان کے برابر نہیں۔اسی کتاب کے صفحہ نمبر122 پر اِبن نقیب کے اَشعار کا ترجمہ اوراس صفحہ کے ترجمہ کا مضمون ایک جیسا ہے لہٰذاہو سکتا ہے کہ مترجم رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہکے پاس ’’ مکاشفۃ القلوب ‘‘ کا جو نسخہ ہو اس میں سابقہ اشعار کچھ الفاظ کے فرق کے ساتھ یہاں دوبارہ لکھے ہوں اور انہوں نے انہی کا ترجمہ کیا ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ علمیہ
 ان اشعار سے متعلق ابن عساکر کی ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ سرکار دو عالم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم      نے حضرت حسان بن ثابت رَضِیَ =