تو سہی! جواب میں اُمیہ بن خلف نے کہا: غار میں گھسنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تمہیں غار کے منہ پر مکڑی کا جو جالا نظر آتا ہے وہ تو محمد (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے، اگر وہ اس میں داخل ہوتے تو یہ جالا اور انڈے ٹوٹ جاتے۔(1) یہ حقیقت میں قومِ قریش کو مقابلہ میں شکست دینے سے بھی بڑا معجزہ تھا۔ غور کیجئے مطلوب کیسے کامیاب اور تلاش کرنے والے کیسے گمراہ ہوئے۔ مکڑی نے جستجو کا دروازہ بند کردیا اور غار کا دہانہ ایسا بن گیا کہ سراغ رسانوں کے قدم لڑکھڑا گئے اور ناکام واپس لوٹے اور مکڑی کو لازوال سعادت میسر آئی، ابن نقیب نے خوب کہا ہے:(اشعار)
{1}…ریشم کے کیڑوں نے ایسا ریشم بنا جو حسن میں یکتا ہے۔
{2}… مگر مکڑی ان سے لاکھوں درجہ بہتر ہے اسلئے کہ اس نے غارِ ثور میں حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کے اُوپر غار کے دَہانے پر جالا بُنا تھا۔
بخاری ومسلم میں حضرتِ اَنَس رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے: حضرتِ ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے فرمایا: جب ہم غار میں تھے میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم سے عرض کی: حضور! اگر یہ اپنے قدموں کی طرف دیکھیں تو یقینا ہمیں دیکھ لیں گے۔ آپ نے فرمایا: ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسراخدا ہے۔(2)
بعض سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ جب ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ عَنْہ نے یہ خدشہ ظاہر کیا تو آپ نے فرمایا: اگر یہ لوگ ادھر سے داخل ہوں گے تو ہم ادھر سے نکل جائیں گے، صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے غار میں نگاہ کی تو دوسری طرف ایک دروازہ نظر آیا جس کے ساتھ ایک بحرِ ناپیدا کنار بہہ رہا تھا اور اس غار کے دروازہ پر ایک کشتی بندھی ہوئی تھی۔(3)
حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم پر قربان ہونا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ کی دِلی آرزو تھی:
حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ عَنْہ فرماتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ عَنْہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کے ساتھ غار کی طرف جارہے تھے تو حضرتِ ابوبکر کبھی حضور (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے آگے چلتے اور کبھی پیچھے چلتے، حضور نے پوچھا: ایسا کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جب مجھے تلاش کرنے والوں کا خیال آتا ہے تو میں آپ کے پیچھے ہوجاتا ہوں اور جب گھات میں بیٹھے ہوئے دشمنوں کا خیال آتا ہے تو آگے آگے چلنے لگتا ہوں ، مبادا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المرجع السابق والسیرۃ الحلبیۃ ، باب عرض رسول اللہ ۔۔۔ الخ، ۲/۵۱
2…بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب المہاجرین وفضلہم ۲/۵۱۷، الحدیث ۳۶۵۳
3…البدایۃ والنہایۃ ، باب ہجرۃ رسول اللہ ۔۔۔الخ ، ۲/۵۶۶