اَسماء بنت ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہا کہتی ہیں ‘ حضرتِ ابوبکر پانچ ہزار درہم ساتھ لے کر گئے تھے۔(1)
صبح جب قریش نے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو نہ پایا تو انہوں نے مکہ کے چاروں طرف تلاش کیا اور ہر طرف سراغ رساں دوڑائے، جو لوگ غارِ ثور کی طرف جارہے تھے، انہوں نے آپ کے نشانِ قدم تلاش کرلئے اور غارِ ثور کی طرف چل پڑے مگر جب غار کے قریب پہنچے تو نشان ختم ہوگئے، قریش حضور کی ہجرت سے بہت خفاتھے اور انہوں نے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو تلاش کرنے والے کے لئے سو اونٹ کا انعام مقرر کردیا تھا۔(2)
حضرتِ قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ سے مروی ہے کہ جبلِ ثبیر نے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم سے عرض کی آپ میری پیٹھ سے اتر جائیں ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں لوگ آپ کو شہید نہ کردیں اور مجھے عذاب نہ دیا جائے، غارِ حرا نے اِلتجا کی حضور (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے یہاں تشری0ف لائیے۔(3)
روایت ہے کہ جونہی حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم حضرتِ ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ کی معیت میں غارِ ثور میں داخل ہوئے، اللہ تَعَالٰی نے غار کے دروازے پر ایک جھاڑی پیدا کردی جس نے ان حضرات کو کفار کی نظروں سے اوجھل کردیا، حکمِ خداوندی سے مکڑے نے غار کے دَہانے پر جالا تن دیا اور جنگلی کبوتروں نے اپنا گھونسلہ بنادیا۔(4)یہ سب کچھ کفارِ مکہ کو غار کی تلاشی سے باز رکھنے کے لئے کیا گیا، ان دو جنگلی کبوتروں کو اللہ تَعَالٰی نے ایسی بے مثال جزادی کہ آج تک حرم میں جتنے کبوتر ہیں وہ انہی دو کی اولاد ہیں ، جیسے انہوں نے اللہ کے نبی کی حفاظت کی تھی ویسے ہی اللہ تَعَالٰی نے بھی حرم میں ان کے شکار پر پابندی عائد کردی ہے۔
قریش کے نوجوان ڈنڈے، لاٹھیاں اور تلواریں سنبھالے چاروں طرف پھیل گئے جن میں سے کچھ غار کی طرف جانکلے، انہوں نے وہاں کبوتروں کا گھونسلا اور اس میں انڈے دیکھے تو واپس لوٹ گئے اور کہنے لگے ہم نے غار کے دہانے پر کبوتروں کا گھونسلا اور اس میں انڈے رکھے دیکھے ہیں ، اگر وہاں کوئی داخل ہوتا تو لامحالہ کبوتر اڑ جاتے، حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے اِن کی یہ باتیں سنیں اور سمجھ گئے کہ اللہ تَعَالٰی نے مشرکین کو ناکام لوٹایا ہے، کسی نے کہا: غار میں جاکر دیکھو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السیرۃ النبوۃ لابن ہشام ، باب ہجرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ص ۱۹۴، ۱۹۵ ملتقتا والخصائص الکبری، باب ما وقع فی الہجرۃ۔۔۔الخ،۱/
۳۰۵2…السیرۃ الحلبیۃ ۲/۵۳-۵۰ ماخوذا
3…الشفاء بتعریف حقوق المصطفے، الباب الرابع۔۔۔الخ، فصل ومثل ہذا۔۔۔الخ، ۱/۲۰۲
4…الطبقات الکبری لابن سعد ، ذکر خروج رسول اللہ ۔۔۔الخ، ۱/۱۷۷