Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
109 - 676
 روایت یہ ہے کہ انہوں نے کہا: حضور مطمئن رہیں ، یہ میری بیٹیاں ہیں حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا مجھے رب ذُوالْجَلَال نے ہجرت کی اجازت دی ہے اور تم میرے ساتھ رہو گے۔ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ عَنْہا  کہتی ہیں : ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ یہ بات سنتے ہی شدتِ جذبات سے روپڑے اور عرض کی حضور! میری ان سواریوں میں سے ایک سواری پسند فرمالیجئے۔ آپ نے فرمایا میں قیمتاً لوں گا۔(1)
	ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا چاہو تو ایک میرے ہاتھ بیچ دو۔(2) آپ نے قیمت دے کر اس لئے سواری حاصل کی تاکہ آپ کو ہجرت کی مکمل فضیلت حاصل ہوجائے اور جان و مال کی قربانی سے اس کی ابتداء ہو۔ حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہ عَنْہا  فرماتی ہیں : ہم نے جلدی جلدی سامانِ سفر درست کیا۔(3) ایک روایت ہے ہم نے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم اور صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ کے لئے بہترین سامانِ سفر باندھا اور اسے ایک تھیلے میں ڈالا۔(4)
سفر ہجرت میں زادِ راہ:
	وَاقدی کی روایت ہے کہ زادِ راہ میں ایک بھُنی ہوئی بکری تھی، حضرتِ اَسماء نے اپنی کمر کا پٹکا پھاڑا اور اس سے تھیلے کا منہ باندھ دیا اسی لئے حضرتِ اَسماء کو ’’ذات النِطاقَین‘‘ کہتے ہیں ۔ (5) 
	حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہ عَنْہا  فرماتی ہیں : حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم اور حضرتِ ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ عَنْہ نے تین راتیں غارِ ثور میں گزاریں ،(6)اس غار میں چونکہ ثور بن عبدمنات آکر ٹھہرا تھا، اسی لئے اسے غارِ ثور کہا جاتا ہے۔
	روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم اور صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ  رات کے وقت مکان کی پچھلی کھڑکی سے نکل کر غار کی طرف روانہ ہوئے تھے، راستہ میں ابوجہل آرہا تھا مگر اللہ نے اسے اندھا کردیا اور آپ خیریت سے گزر گئے۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب مناقب الانصار، باب ہجرۃ النبی و اصحابہ ۔۔۔الخ، ۲/۵۹۱، الحدیث۳۹۰۵ ملتقاً  ملخصا و المجعم الکبیر، ۲۴/۱۰۶، الحدیث ۲۸۴ بتغیر 
2… المجعم الکبیر، ۲۴/۱۰۶، الحدیث ۲۸۴ بتغیر 
3…بخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ہجرۃ النبی و اصحابہ ۔۔۔الخ، ۲/۵۹۳، الحدیث ۳۹۰۵، ملخصاً 
4…مسند احمد ۱۰/۶، الحدیث:۲۵۶۸۴		
5… بخاری ، کتاب الجہادوالسیر، باب حمل الزاد فی الغزو، ۲/۳۰۴، الحدیث ۲۹۷۹.(ملخصا)
6…بخاری ، کتاب مناقب الانصار، باب ہجرۃ النبی صلی اللہ  علیہ وسلم۔۔۔ الخ، ۲/۵۹۳، الحدیث ۳۹۰۵ ، ملخصاً