{1}…گھبراؤ نہیں ، ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے اور ہر چیز ایک وقت مقرر تک رہتی ہے۔
{2}…مقدرہم سے زیادہ باخبر ہے اور ہماری تدبیروں پر اللہ کی تدبیر غالب رہتی ہے۔
حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہمَانے فرمانِ باری :
وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا (1)
کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اس آیت میں اللہ تَعَالٰی نے نبی کریم کو ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی اور حضرتِ جبریل نے آپ سے کہا کہ آپ حضرتِ ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ کو اپنی ہجرت کا ساتھی منتخب کریں ۔
حاکم کی روایت ہے: حضرتِ علی رَضِیَ اللہ عَنْہ کہتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے(حضرتِ) جبریل سے پوچھا: میرے ساتھ کون ہجرت کرے؟ تو اُنہوں نے کہا: حضرتِ ابوبکر صدیق (2)(رَضِیَ اللہ عَنْہ)۔ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے حضرتِ علی رَضِیَ اللہ عَنْہ کو ہجرت کے متعلق بتلایا اور فرمایا: تم میرے بعد یہیں رہنا اور لوگوں کی امانتیں واپس کر کے آنا۔(3)
بیت صدیق اکبر میں حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کا خلافِ معمول تشریف لانا
حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہ عَنْہا سے مروی ہے کہ ہم گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اور دوپہر کا وقت تھا، اور طبرانی نے حضرتِ اسماء کی روایت نقل کی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم مکہ میں دومرتبہ صبح اور شام ہمارے گھر تشریف لایا کرتے تھے مگر اس دن زوال کے وقت تشریف لائے، میں نے اپنے والد ابوبکر رَضِی َاللہ عَنْہ سے جاکر کہا: اباجان! نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم آج خلافِ معمول چہرے پر کپڑا لپیٹے تشریف لائے ہیں ۔ حضرتِ ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے کہا: بخدا! حضور کسی اہم کام کے لئے اس وقت تشریف لائے ہیں ، حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہ عَنْہا کہتی ہیں کہ حضور اجازت لے کر اندر تشریف لائے۔ حضرتِ ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے آپ کے لئے چار پائی خالی کردی۔ جب حضور تشریف فرما ہوگئے تو آپ نے فرمایا: ان دونوں کو باہر بھیج دیا جائے۔ صدیق اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے عرض کی: حضور! یہ عائشہ اور اسماء آپ ہی کا گھرانا ہے۔ ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂکنزالایمان:اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا اور مجھے اپنی طرف سے مدد گار غلبہ دے۔ (پ۱۵، بنی اسرائیل :۸۰)
2…المستدرک للحاکم، کتاب الہجرۃ ، باب ہجرۃ ابی بکر۔۔۔الخ،۳/۵۳۸، الحدیث ۴۳۲۵
3…السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص۱۹۴