Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
107 - 676
 کرنے والے، حجرِ اسود کو چومنے والے سے بہترین ہے۔
{2}…رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو قریشِ مکہ کے فریب کا اندیشہ ہوا تو ان کو ربِ ذُوالْجَلَالنے ان کے فریب سے بچالیا۔
{3}…اور رسولِ خدا نے غار میں نہایت سکون کے ساتھ اللہ کی حفاظت میں رات بسر کی ۔
{4}…جبکہ میں قریشِ مکہ کے روبرو سویا ہوا تھا اور اس طرح میں خود کو اپنے قتل و قید ہونے پر آمادہ کئے ہوئے تھا۔   (ترجمہ اشعار حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم)
	اللہ تَعَالٰی نے قریش کے ان نوجوانوں کو اندھا کردیا اور نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قریش کے جیالوں پر مٹی ڈالتے ہوئے، یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے باہر نکل گئے:  ’’ فَاَغْشَیۡنٰہُمْ فَہُمْ لَا یُبْصِرُوۡنَ ﴿۹﴾ ( ‘‘(1)
	اس حال میں ایک شخص وہاں آیا اور اس نے ان لوگوں سے پوچھا :یہاں کیا کررہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم محمد (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے منتظر ہیں ، اس نے کہا: خدا کی قسم! وہ تمہارے سروں پر مٹی ڈالتے ہوئے نکل گئے ہیں اور اللہ تَعَالٰی نے تمہیں ذلیل و رسوا کیا ہے، اب تم یہاں کھڑے کیا کررہے ہو؟ اب جواُنہوں نے اپنے سروں کو ہاتھ لگایا تو سب کے سروں میں مٹی پڑی ہوئی تھی اور وہ حضرتِ علی رَضِیَ اللہ عَنْہ کو حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی چادر اوڑھے سوتا دیکھ کر ایک دوسرے سے یہی کہتے رہے کہ خدا کی قسم! یہ محمد (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) سورہے ہیں ، یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور حضرتِ علی رَضِیَ اللہ  عَنْہ بستر سے اٹھے، ان کو دیکھ کر یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے: اس شخص نے واقعی سچ کہا تھا، اسی واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی :
وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ  (2)  
اور جب کفار مکہ آپ کے ساتھ فریب کر رہے تھے کہ وہ آپ کو سخت زخمی یا قتل کر دیں ۔ 
لا تجزعن فبعد العسر تیسر		وکل شیء لہ وقت وتقدیر
وللمقدر   فی   احوالنا   نظر		                   و فوق   تدبیرنا   للّٰہ   تدبیر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا۔ (پ۲۲، یس:۹)  
2…ترجمۂکنزالایمان:اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند (قید) کرلیں یا شہید کردیں۔             (پ۹،الانفال:۳۰)  … السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ہجرۃ الرسول،ص ۱۹۱- ۱۹۳ بتغیر قلیل