میں ہے کہ پندرہ آدمی تھے۔ ابو البختری (جو غزوہ بدر کے دن مارا گیا تھا) نے مشورہ دیا: محمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو لوہے کے ایک قلعہ میں بند کردو اور اس وقت کا انتظار کرو جب ان کا انجام بھی پہلے شعراء جیسا ہو جائے۔ شیخِ نجدی نے کہا :یہ بات غلط ہے، بخدا !اگر تم انہیں آ ہنی دروازے کے پیچھے بھی بند کردو تو وہ وہاں سے نکل کر اپنے اصحاب کے ہاں پہنچ جائیں گے۔
ابوالاسود ربیعہ بن عمر والعامری نے رائے دی کہ محمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو جلا وطن کردو، یہ جہاں بھی جائے ہمیں کوئی پروا نہیں ، بس ہمارے شہروں میں نہ رہے۔ شیخِ نجدی نے اس رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا :کیا تم نے محمد (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی اچھی باتیں ، ان کی شیریں بیانی اور لوگوں کا ان پر پروانہ وار نثار ہونا نہیں دیکھا؟ اگر تم ان کو جلاوطن کر کے مطمئن ہوگئے تو یہ تمہاری سب سے بڑی غلطی ہوگی، وہ کسی اور قبیلہ میں چلے جائیں گے اور اپنی سحر بیانی سے لوگوں کو اپنا فریفتہ بنالے گا اور اپنے معتقدین کی ایک عظیم جمعیت کے ساتھ تم پر غلبہ حاصل کرلے گا، تمہاری یہ شان و شوکت حرفِ غلط کی طرح مٹ جائیگی اور وہ تمہارے ساتھ جو چاہیں گے کریں گے، کوئی اور رائے دو۔
ابوجہل نے کہا: میرے ذہن میں ایک ایسی رائے ہے جو کسی نے بھی نہیں دی، وہ یہ ہے کہ ہر قبیلہ سے ایک صاحبِ حسب و نسب بہادر لیا جائے اور یہ سب مل کر یکبارگی محمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم پر تلواروں سے بھرپور وار کریں اور ان کو قتل کردیں ، ہماری بھی جان چھوٹ جائیگی اور بنو عبد مناف تمام قبائل کا مقابلہ کرنے سے تور ہے وہ صرف دِیت لے لیں گے جسے تمام قبائل باہم ادا کردیں گے، شیخ نجدی ملعون اس رائے پر پھڑک اٹھا اور کہنے لگا: اب ہوئی بات!
چنانچہ متفقہ طور پر یہ رائے مان لی گئی اور سب لوگ گھروں کو چل دئیے، ادھر حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ اس بستر پر استراحت نہ فرمائیں جس پر آپ ہمیشہ آرام فرماتے ہیں ۔ جب رات ہوئی تو قریش کے جوان کا شانۂ نبوت کے گرد منڈلانے لگے اور اس وقت کا انتظار کرنے لگے کہ آپ باہر آئیں اور وہ یکبارگی حملہ کردیں ، حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے حضرتِ علی رَضِیَ اللہ عَنْہ کو اپنے بستر پر اس شب سُلایا اور ان پر سبز رنگ کی ایک چادر ڈال دی جو بعد میں حضرتِ علی رَضِیَ اللہ عَنْہ جمعہ اور عیدین کے موقعوں پر اوڑھا کرتے تھے۔ حضرتِ علی رَضِیَ اللہ عَنْہ پہلے شخص تھے جنہوں نے جان بیچ کر حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی حفاظت کی تھی، چنانچہ حضرتِ علی کَرَّمَاللہُ وَجْہَہنے ان اشعار میں اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے:
{1}… میں نے اپنی جان کے بدلے اس خیرِ خلق صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی حفاظت کی جو اللہکی زمین پر سب سے بہتر ہے اور جوہر طواف