تب میں انہیں ایسے گناہوں کی طرف لے گیا جن کے لئے وہ کبھی استغفار نہیں کرتے اور وہ ان کی ناجائز خواہشات ہیں اور ملعون کی یہ بات حقیقتاً صداقت پر مبنی ہے کیونکہ عام طور پر لوگ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ خواہشات ہی اصل میں گناہوں کی طرف راغب کرتی ہیں لہٰذا وہ اللہ سے استغفار کریں ۔
ایک راستہ مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی کا ہے لہٰذا اس سے اور بدبختوں کی تہمتوں سے بچنا چاہئے، اگر آپ کبھی کسی ایسے انسان کو دیکھیں جو لوگوں کے عیب ڈھونڈھتا ہے اور بدگمانیاں پھیلاتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ شخص خود ہی بدباطن ہے اور یہ امر اس کی بدباطنی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے لہٰذا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ شیطان کے داخلے کے ان تمام راستوں کو مسدود کردے اور اللہ تَعَالٰی کی یاد سے اپنے دل کو ایک محفوظ قلعہ بنالے۔
دارالندوہ میں شیطان کا قریش کو مشورہ
ابن اسحق رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کی روایت ہے کہ جب قریشِ مکہ نے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کے صحابہ کرام (رِضْوَانُاللہ ِعَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن) کو ہجرت کرتے اور متعدد قبائل کے لوگوں کو مسلمان ہوتے دیکھا تو اُنہیں یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم بھی ہجرت نہ کر جائیں اور وہاں ایک زبردست جماعت اپنی حمایت میں تیار کر کے ہمیں شکست نہ دے دیں چنانچہ یہ لوگ دَارُا لنَّدْوَہ میں جمع ہوئے، دَارُا لنَّدْوَہ قصی بن کلاب کا مکان تھا یہ دَارُا لنَّدْوَہ اس لئے کہلاتا تھا کہ یہاں قریش اپنے تمام اہم امور سرانجام دیتے اور منصوبے تیار کرتے تھے، اس دَارُا لنَّدْوَہ میں چالیس سالہ قریشی کے علاوہ کوئی اور شخص یا کم عمر قریشی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ سب لوگ ابوجہل کے ساتھ ہفتہ کے روز جمع ہوئے اس لئے ہفتہ کو دھو کے اور فریب کا دن کہا گیا ہے، ان لوگوں کے ساتھ ابلیس بھی شریکِ مشاورت ہوتا تھا، اس ملعون کے شامل ہونے کا واقعہ یوں ہے کہ جب قریشِ مکّہ دارالندوہ کے دروازہ پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک باوقار بوڑھا کھر دَرا ساکمبل اوڑھے کھڑا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ طیلسان کی ریشمی چادر اوڑھے ہوئے تھا، انہوں نے پوچھا :آپ کون ہیں ؟ کہنے لگا: میں شیخِ نجدی ہوں ، تم نے جو ارادہ کیا ہے میں نے وہ سُن لیا ہے اور میں اس لئے آیا کہ تمہاری گفتگو سنوں اور مشورے اور نصیحتیں کروں ۔
چنانچہ یہ سب لوگ اندر داخل ہوگئے اور باہم مشورہ ہونے لگا۔ ایک روایت ہے کہ سَو آدمی تھے اور دوسری روایت