Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
104 - 676
 اور لاپروائی کے وقت حملہ کرو (ان ہتھیاروں سے کام لو)۔
	ایک راستہ زر اور زمین کا ہے کیونکہ جو چیز انسان کی حاجت سے زائد ہو وہ شیطان کا مسکن بن جاتی ہے۔ حضرتِ ثابت البنانی رَضِیَ اللہ عَنْہ کا قول ہے کہ جب اللہ تَعَالٰی نے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو مبعوث فرمایا تو شیطان نے اپنے شاگردوں سے کہا: آج کوئی اہم واقعہ رونما ہوا ہے، جاؤ دیکھو تو کیا ماجرا ہے؟ وہ سب تلاش میں نکلے مگر ناکام لوٹ کر کہنے لگے ہمیں تو کچھ بھی معلوم نہ ہوسکا، شیطان نے کہا: تم ٹھہرو میں ابھی تمہیں آکر بتاتا ہوں ، شیطان نے واپس آکر بتلایا کہ اللہ تَعَالٰی نے (حضرتِ) محمد (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کو مبعوث فرمایا ہے۔ چنانچہ شیطان نے اپنے تمام شاگردوں چیلوں کو صحابہ کرام (رِضْوَانُاللہ ِعَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن)  کے پیچھے لگایا کہ ان لوگوں کو گمراہ کریں مگر واپس جاکر کہتے: اے اُستاد! ہم نے آج تک ایسی ناکامی کا منہ نہیں دیکھا، جب یہ نماز شروع کرتے ہیں تو ہمارا سب کیا دھرا خاک میں مل جاتا ہے۔ تب شیطان نے کہا :گھبراؤ نہیں ابھی کچھ اور انتظار کرو، عنقریب ان پر دنیا ارزاں و فراواں ہوجائے گی اور اس وقت ہمیں اپنی اُمیدیں پورا کرنے کاخوب موقع مل جائیگا ۔
	روایت ہے کہ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام ایک دن پتھر سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، شیطان کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے کہا: اے عیسٰی! (عَلَیْہِ السَّلَام) تم نے دنیا کو مرغوب سمجھا ہے؟ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے پکڑ لیا اور اس کی گدی میں مُکّا رسید کر کے فرمایا: یہ لے جا، یہ تیرے لئے دنیا ہے۔
	ایک راستہ فقروفاقہ کا ڈر اور بخیلی ہے کیونکہ یہ چیزیں انسان کو راہِ خدا میں خرچ کرنے سے روکتی ہیں اور اسے مال و دولت جمع کرنے اور عذابِ الیم کی دعوت دیتی ہیں ۔ بخل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بخیل مال و دولت حاصل کرنے کے لئے بازاروں کے چکّر لگاتا رہتا ہے جوکہ شیطان کی آماجگا ہیں ہیں (شیطان انہی جگہوں پر گھات لگائے بیٹھا ہوتا ہے)۔
	ایک راستہ مذہب سے نفرت، خواہشات کی پیروی، اپنے مخالفین سے بغض و حسد اور انہیں حقارت سے دیکھنا ہے اور یہ چیز خواہ وہ عابد ہو یا فاسق سب کو ہلاک کردیتی ہے۔ حضرتِ حسن رَضِیَ اللہ عَنْہ کا ارشاد ہے کہ شیطان نے کہا: میں نے امتِ محمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو گناہوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکایا مگر انہوں نے استغفار سے مجھے شکست دے دی،