شیطان کا ایک راستہ مال و متاعِ دنیا پر فریفتگی ہے کیونکہ شیطان جب انسان کا دل ان چیزوں کی طرف مائل دیکھتا ہے تو انہیں اور زیادہ حسین انداز میں اس کے سامنے پیش کرتا ہے اور انسان کو ہمیشہ مکانات کی تعمیر،سقف و دروبام کی آرائش و زیبائش میں الجھائے رکھتاہے اور اسے خوبصورت لباس، اچھی اچھی سواریوں اور طویل عمر کی جھوٹی امیدوں میں مبتلا کردیتا ہے اور جب کوئی انسان اس منزل پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی راہِ خدا پر واپسی دشوار ہوجاتی ہے کیونکہ وہ ایک امید کے بعد دوسری امید بڑھاتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت مقرر آجاتا ہے اور وہ اسی شیطانی راستے پر گامزن رہتے اور خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے اس ناپائیدار دنیا سے اٹھ جاتا ہے۔ (نَعُوْذُبِاللہ)
شیطان کے غلبے کا ایک راستہ لوگوں سے امیدیں رکھنا ہے، حضرتِ صفوان بن سلیم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہفرماتے ہیں کہ شیطان حضرت عبداللہ بن حنظلہ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں ،اسے یادرکھنا انہوں نے کہا: مجھے تیری کسی نصیحت کی ضرورت نہیں ہے، شیطان نے کہا: تم سنو تو سہی! اگر اچھی بات ہو تو یاد رکھنا ورنہ چھوڑ دینا، بات یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے سوا کسی انسان سے اپنی آرزوؤں کا سوال نہ کرنا اور یہ دیکھنا کہ غصہ میں تمہاری کیا حالت ہوتی ہے کیونکہ میں غصہ کی حالت میں ہی انسان پر قابو پاتا ہوں ۔
شیطان کا ایک راستہ ثابت قدمی کا انسان میں فقدان اور جلد بازی کی طرف اس کا میلان ہے، فرمانِ نبوی ہے: جلدبازی شیطانی فعل ہے اور تحمل اور بردباری اللہ کا عطیہ ہے۔ (1)
جلد بازی میں انسان کو شیطان ایسے طریقے سے برائی پر مائل کرتا ہے کہ انسان محسوس ہی نہیں کرتا۔ روایت ہے کہ جب حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت ہوئی تو شیطان کے تمام شاگرد اس کے یہاں جمع ہوئے اور کہنے لگے: آج تمام بت سرنگوں ہوگئے ہیں ، شیطان نے کہا: معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عظیم حادثہ رونما ہوا ہے، تم یہیں ٹھہرو میں معلوم کرتا ہوں ، چنانچہ اس نے مشرق و مغرب کا چکر لگایا مگر کچھ بھی پتہ نہ چلا، یہاں تک کہ وہ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکی جائے ولادت پر پہنچا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ملائکہ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کو گھیرے ہوئے ہیں ، وہ واپس اپنے شاگردوں کے پاس پہنچا اور کہنے لگا کہ گذشتہ شب ایک نبی کی ولادت ہوئی ہے، میں ہر بچہ کی ولادت کے وقت موجود ہوتا ہوں مگر مجھے ان کی پیدائش کا قطعی علم نہیں ہوا لہٰذا اس رات کے بعد بتوں کی عبادت ختم ہوجائیگی اس لئے اب انسان پر جلد بازی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، الثالث والثلاثون۔۔۔الخ ، ۴/۸۹ ، الحدیث ۴۳۶۷