کشتی نوح میں شیطان کی سواری
روایت ہے کہ جب حضرتِ نوح عَلَیْہِ السَّلَام نے بحکمِ خداوند ی پہلے ہر جنس کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کیا اور خود بھی سوار ہوئے تو آپ نے ایک اجنبی بوڑھے کو دیکھ کر پوچھا تمہیں کس نے کشتی میں سوار کیا ہے؟ اس نے کہا :میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ کے ساتھیوں کے دلوں پرقبضہ کرلوں ، اس وقت ان کے دل میرے ساتھ اوربدن آپ کے ساتھ ہوں گے۔
حضرتِ نوح عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اے اللہ کے دشمن! اے ملعون! نکل جا! اِبلیس بولا: اے نوح! پانچ چیزیں ایسی ہیں جن سے میں لوگوں کو گمراہی میں ڈالتا ہوں ، تین تمہیں بتلاؤں گا اور دو نہیں بتلاؤں گا۔ اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی، آپ کہیں کہ مجھے تین سے آگاہی کی ضرورت نہیں تو مجھے صرف وہی دو بتلادے۔ شیطان بولا وہ دو ایسی ہیں جو مجھے کبھی جھوٹا نہیں کرتیں اور نہ ہی کبھی ناکام لوٹاتی ہیں اور انہیں سے میں لوگوں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرتا ہوں ۔ ان میں سے ایک حسد ہے اور دوسری حرص ہے، اسی حسد کی وجہ سے تومیں راندئہ درگاہ اور ملعون ہوا ہوں اور حرص کے باعث آدم عَلَیْہِ السَّلَام کوممنوعہ چیز کی خواہش پیدا ہوئی اور میری آرزو پوری ہوگئی۔
شیطان کا ایک راستہ انسان کا پیٹ بھرا ہونا ہے اگرچہ وہ رزقِ حلال سے ہی بھرا گیا ہو کیونکہ پیٹ کا بھر جانا شہوتوں کو برانگیختہ کرتا ہے اور شیطان کا یہی ہتھیار ہے۔
پیٹ بھر کر کھانا بھی انسان کو شیطان کے پھندے میں پھنساتا ہے
روایت ہے کہ حضرتِ یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے ایک مرتبہ شیطان کو دیکھا وہ بہت سے پھندے اٹھائے ہوئے تھا آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں ؟ شیطان نے جواب دیا: یہ وہ پھندے ہیں جن سے میں انسان کو پھانستا ہوں ۔ آپ نے پوچھا: کبھی مجھ پر بھی تو نے پھندا ڈالا ہے؟ شیطان نے کہا: آپ جب بھی سیر ہوکر کھالیتے ہیں میں آپ کو ذکرونماز سے سست کردیتا ہوں ۔ آپ نے پوچھا: اور کچھ؟ کہا: بس! تب آپ نے قسم کھائی کہ میں آئندہ کبھی سیر ہوکر نہیں کھاؤں گا، شیطان نے بھی جواباً قسم کھائی، میں بھی آئندہ کسی مسلمان کو نصیحت نہیں کروں گا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، التاسع والثلاثون۔۔۔الخ ، الفصل الثانی فی ذم کثرۃ الاکل ، ۵/۴۱، الحدیث ۵۷۰۰(بتغیر قلیل)