شیطان کا گمراہ کن سوال
شیطان نے امامِ شافعی رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ سے پوچھا: تیرا اس ذات کے متعلق کیا خیال ہے جس نے مجھے جیسے چاہا پیدا کیا اور جوچاہا مجھ سے کرایا، اس کے بعد وہ مجھے چاہے تو جنت میں بھیج دے اور چاہے تو جہنم میں بھیج دے، کیا ایسا کرنے والا عادل ہے یا ظالم؟ امامِ شافعی رَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہ نے کچھ توقف کے بعد جواب دیا: اے شخص! اگر اس نے تجھے تیری منشا کے مطابق پیدا کیا تو واقعی تو مظلوم ہے اور اگر اس نے تجھے اپنے ارادئہ قدرت کے تحت پیدا کیا تو پھر اس کی مرضی ہے جو کرے، شیطان شرم سے پانی پانی ہوگیا اور کہنے لگا: یہی سوال کر کے میں نے ستر ہزار عابدوں کو ضلالت و گمراہی کے غار میں دھکیل دیا ہے۔
انسانی قلب ایک قلعہ ہے
انسانی قلب کی مثال ایک قلعہ جیسی ہے اور شیطان ایک دشمن ہے جو قلعہ پر حملہ کر کے اس پر قبضہ جمانا چاہتا ہے قلعہ کی حفاظت دروازوں کو بند کئے بغیر اور تمام راستوں اور رخنوں کی نگرانی کے بغیر ناممکن ہے اور یہ فریضہ وہی سرانجام دے سکتا ہے جو ان راستوں سے اچھی طرح واقف ہو لہٰذا دل کو شیطانی وساوس کی یلغار سے محفوظ رکھنا ہر عقلمند کے لئے ضروری ہی نہیں بلکہ ایک فرضِ عین ہے چونکہ شیطان کی یلغار کا مقابلہ اس وقت تک ناممکن ہے، جب تک اس کی تمام گزر گاہوں سے واقفیت نہ ہو لہٰذا ان گزر گاہوں سے واقفیت اولین ضرورت ہے اور یہ گزرگاہیں انسان ہی کی پیدا کردہ ہوتی ہیں جیسے غصہ اور شہوت کیونکہ غصہ عقل کو ختم کردیتا ہے لہٰذا جب عقل ماند پڑجاتی ہے تو شیطانی لشکر انسان پر زبردست حملہ کردیتا ہے، جونہی انسان غضبناک ہوتا ہے، شیطان اس سے ایسے کھیلتا ہے جیسے بچہ گیند سے کھیلتا ہے۔
ایک بندئہ خدا نے شیطان سے پوچھا: یہ بتلا تو انسان پر کیسے قابو پالیتا ہے؟ شیطان نے کہا میں اسے غصہ اور شہوت کے وقت زیر کرتا ہوں ۔
شیطان کے راستوں میں ایک راستہ حرص اور حسد کا بھی ہے کیونکہ حرص انسان کو اندھا اور بہرہ کردیتی ہے لہٰذا شیطان اس فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے تمام برائیوں کو حریص کے سامنے حسین انداز میں پیش کرتا ہے اور وہ اسے خوبیاں سمجھ کر قبول کرتا چلا جاتا ہے۔