شیطان کے وسوسے کا انجام
حضورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک زاہد کو شیطان نے راہِ راست سے ہٹانے کے لئے یہ چال چلی کہ ایک لڑکی کو پیٹ کی بیماری میں مبتلا کردیا اور اس کے گھر والوں کے دلوں میں خیال ڈال دیا کہ اس بیماری کا علاج زاہد کے سوا کہیں بھی ممکن نہیں ہے چنانچہ وہ لوگ زاہد کے پاس آئے مگر اس نے لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کردیا لیکن ان کی باربار کی گزارشات پر اس کا دل پسیج گیا اور اس نے لڑکی کو علاج کے لئے اپنے پاس ٹھہرا لیا، جب بھی وہ لڑکی زاہد کے پاس جاتی، شیطان اسے انتہائی خوش نما انداز میں پیش کرتا یہاں تک کہ زاہد کے قدم ڈگمگاگئے اور اس نے لڑکی سے مباشرت کی جس سے لڑکی کو حمل رہ گیا۔ اب شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ پیدا کیا کہ یہ تو بہت بُری بات ہوئی، میرے زہدواتقاء پر حرف آگیا لہٰذا اسے قتل کر کے دفن کردینا چاہئے، جب اس کے گھر والے پوچھنے کو آئیں گے تو کہہ دونگا وہ مرگئی ہے چنانچہ شیطان کے بہکاوے میں آکر زاہد نے اس لڑکی کو قتل کر کے دفن کردیا، ادھر لڑکی کے گھروالوں کے دلوں میں شیطان نے یہ خیال ڈال دیا کہ اسے زاہد نے قتل کر کے دفن کردیا لہٰذا وہ زاہد کے پاس آئے اور لڑکی کے متعلق پوچھ گچھ کی، زاہد نے کہا: وہ مرگئی ہے لیکن ان لوگوں نے اپنے وسوسے کے مطابق زاہد پر سختی کی اور اس سے اقرار کرالیا کہ اس نے لڑکی کو قتل کیا ہے، انہوں نے اسے پکڑ لیا اور قصاص میں قتل کرنے لگے۔ تب شیطان ظاہر ہوا اور زاہد سے بولا: میں نے اسے پیٹ کی بیماری میں مبتلا کیا تھا اور میں نے ہی اس کے گھروالوں کے دلوں میں تیرے جرم کا خیال ڈالا تھا، اب تومیرا کہنا مان لے، میں تجھے بچالوں گا۔ زاہد نے پوچھا: کیا کروں ؟ شیطان بولا: مجھے دوسجدے کرلے، چنانچہ زاہد نے جان بچانے کے لئے شیطان کو سجدہ کرلیا، اب شیطان یہ کہتا ہوا وہاں سے چل دیا کہ میں تیرے اس فعل سے بَری ہوں، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے کہ
کَمَثَلِ الشَّیۡطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنۡسَانِ اکْفُرْۚ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکَ (1)
شیطان کی طرح جس نے انسان سے کہا کفر کر جب اس نے کفر کیا تو شیطان نے کہا میں تجھ سے بری ہوں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں۔ (پ۲۸،الحشر:۱۶) …شعب الایمان ، الباب السابع والثلاثون۔۔۔الخ، باب فی تحریم الفروج ، ۴/۳۷۲، الحدیث۵۴۴۹ والدرالمنثور، پ ۲۸، الحشر، تحت الایۃ ۱۵، ۸/۱۱۸ بتغیر قلیل