Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
201 - 952
باب 

باب  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  اس باب میں دو قسم کے مضامین ہوں گے: حضرات صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات اس لیے صرف باب کہا کہ اس کا مضمون ایک نہیں چند ہیں۔خیال رہے کہ حضور انور ماہ صفر کے آخری تاریخوں میں شنبہ کے دن درد سر بخار سے بیمار ہوئے سترہ دن بیمار رہے،بارہویں ربیع الاول دو شنبہ کو وفات ہوئی،بدھ کو دفن ہوئے، زمانہ مرض میں چالیس غلام آزاد کیے،آخری دن میں مسجد تشریف نہ لائے،حضرت صدیق اکبر کو اپنی جگہ امام مقررکیا صرف ایک نماز میں تشریف لائے جس کے بعد خطبہ فرمایا،بعد وفات حضرت ابوبکر صدیق کی ہدایت پر ازواج پاک اور علی مرتضیٰ نے غسل دیا(ترمذی)بعد غسل آنکھ کے کوئے شریف میں پانی کا قطرہ رہ گیا وہ حضرت علی نے چاٹ لیا تھا جس سے آپ کا حافظہ بہت ہی قوی ہوگیا،آپ کی قبر انور میں آپ کے غلام شقران نے آپ کا کمبل بچھادیا،قبر انور لحد یعنی بغلی تھی جسے نو اینٹوں سے بند کیا گیا۔(اشعۃ اللمعات)
حدیث نمبر201
روایت ہے حضرت براء سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ سے جو پہلے ہمارے پاس پہنچے وہ مصعب ابن عمیر اور ابن ام مکتوم تھے وہ دونوں ہم کو قرآن پڑھانے لگے ۲؎ پھر جناب عمار و بلال اور سعد آگئے پھر حضرت عمر ابن خطاب بیس صحابہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی جماعت میں آپہنچے۳؎ پھر خود نبی صلی الله علیہ وسلم بنفس نفیس تشریف لائے۴؎ تو میں نے مدینہ والوں کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی چیز سے خوش ہوئے جیساکہ حضور کی تشریف آوری سے خوش ہوئے حتی کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو کہتے سنا کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے آئے ۵؎ پھر آپ نہ آئے حتی کہ"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"ان جیسی مفصل کی سورتوں کے درمیان میں پڑھ چکا تھا ۶؎ (بخاری)
شرح
۱؎ براء ابن عازب مشہور انصاری صحابی ہیں،پہلے آپ غزوہ خندق میں شریک ہوئے اس سے پہلے بچہ تھے،حضرت علی کے ساتھ جنگ جمل و صفین میں شریک ہوئےعبدالله ابن زبیر کی خلافت میں کوفہ میں وفات پائی۔(اشعہ)

۲؎ ان دونوں حضرات کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے انصار مدینہ کی عرض معروض پر مدینہ منورہ بھیجا تاکہ یہ دونوں انصار کو قرآن اور احکام اسلام کی تعلیم دیں،اولًامدینہ منورہ میں یہ دونوں حضرات آئے۔(اشعہ)

۳؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے مدینہ پاک تشریف لے جانے سے پہلے پچیس صحابہ مدینہ منورہ ہجرت کرکے پہنچ چکے تھے اسلام وہاں پھیل چکا تھا۔

۴؎ حضور انور جناب ابوبکر صدیق کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرکے پہنچے دن دو شنبہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ نبوت کے تیرھویں سال۔

۵؎ مسلم شریف باب حدیث الہجرت میں ہے کہ اس دن بچیاں بچے مدینہ منورہ کے گلی کوچوں میں یہ کہتے پھرتے تھے یامحمد یارسول الله اور چھتوں پر عورتیں وغیرہا اس جلوس کا نظارہ کرتی تھیں مگر یہ روایت مسلم کی اس روایت کے خلاف نہیں بعض بچے یہ کہتے تھے اور بعض دوسرے بچے جلوس نکالتے تھے،یا اولًا یہ کہا بعد میں جلوس نکالا اور وہ کلمات کہے۔

۶؎ یعنی حضور انور کے مدینہ منورہ تشریف لانے تک ان آنے والے صحابہ کرام سے سورۂ اعلیٰ اور اس جیسی دوسری سورتیں اوساط مفصل کی سیکھ چکا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ اعلیٰ مکیہ ہے مگر اس پر اعتراض یہ ہے کہ اس سورہ کے آخر میں ہے"قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی"یہاں تزکی سے مراد ہے صدقہ فطر ادا کرنا اور صلی سے مراد ہے نماز عید پڑھنا۔صدقہ فطر اور نماز عید دونوں    ۲ھ ؁ ہجری میں آئیں پھر یہ سورت مکیہ کیسے ہوئی اس لیے بعض نے فرمایا کہ ساری سورۂ اعلیٰ تو مکیہ ہے مگر یہ آیت مَدَنِیہ ہے مگر حق یہ ہے کہ پوری سورۂ اعلیٰ مکیہ ہے اس آیت میں نماز عید اور فطرہ کی ترغیب ہے جو مکہ معظمہ میں دی گئی اس پر عمل بعد ہجرت ہوا۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ یہاں تزکی سے مراد تزکیہ نفس دل کی صفائی ہو اور صلی سے مراد نماز پنجگانہ ہو اس صورت میں کوئی اشکال نہیں۔
Flag Counter