Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
199 - 952
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر198
روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے ۱؎ کہ سعید ابن زید ابن عمرو ابن نفیل سے ۲؎ ارویٰ بنت اوس نے۳؎ مروان ابن حکم کی کچہری میں جھگڑا(مقدمہ)کیا۴؎ اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی زمین کا ایک حصہ لے لیا ۵؎ تو سعید نے کہا کہ کیا میں اس کی زمین کا کچھ حصہ لے سکتا ہوں اس کے بعد کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں ۶؎ مروان نے کہا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کسی کی ایک بالشت زمین ظلمًا لے لے تو سات زمین تک کی زمین گلے میں طوق ڈالا جائے گا ۷؎ ان سے مروان نے کہا کہ اس کے بعد میں تم سے کوئی دلیل نہیں مانگتا ۸؎ تو سعید نے کہا الٰہی اگر یہ جھوٹی ہو تو اس کی آنکھیں اندھی کردے اور اسے اس کی زمین میں مار دے ۹؎ راوی نے فرمایا کہ وہ نہ مری حتی کہ اس کی آنکھیں جاتی رہیں اور جب کہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ وہ ایک گڑھے میں گر گئی مرگئی ۱۰؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں محمد ابن زید ابن عبداللہ ابن عمرو سے ۱۱؎ اس کے معنی مروی ہیں کہ انہوں نے اسے اندھا دیکھا جو دیواریں ٹٹولتی تھی کہ مجھے سعید کی دعا لگ گئی ۱۲؎ اور وہ اس کنویں پر گزری جو اس کے گھر میں تھا جس کے بارے میں اس نے سعید سے جھگڑا کیا تھا تو وہ اس میں گر گئی وہ ہی اس کی قبر بن گئی۱۳؎
شرح
۱؎ آپ حضرت زبیر ابن عوام کے بیٹے ہیں،تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہے،آپ کی والدہ اسماء ہیں یعنی عائشہ صدیقہ کی بہن،عبداللہ ابن زبیر کے بھائی ہیں،آپ    ۲۲ھ؁ بائیس میں پیدا ہوئے،قراء مدینہ میں سے تھے۔

۲؎ حضرت سعید عشرہ مبشرہ سے ہیں حضرت عمر کے بہنوئی ہیں،بہت مقبول الدعاء تھے،آپ کی تلاوت سن کر حضرت عمر اولًا غصہ میں آئے پھر مسلمان ہو گئے،آپ سواء بدر کے تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن فاطمہ آپ کی بیوی تھیں،آپ کی عمر ستر سال سے زیادہ ہوئی،     ۵۱ھ؁  اکیاون میں وفات پائی،مقام عقیق میں وفات ہوئی، وہاں سے مدینہ منورہ لائے گئے جنت بقیع میں دفن کیے گئے۔(اکمال)

۳؎ غالبًا ارویٰ تابعہ ہیں،آپ کے والد اوس ابن اوس صحابی ہیں،بعض نسخوں میں ارویٰ بنت اویس ہے۔

۴؎ مروان کی کنیت ابو عبدالملک ہے،قرشی اموی ہیں،حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دادا ہے،مروان حضور انور کے زمانہ میں پیدا ہوا مگر حضور کی زیارت نہ کرسکا لہذا تابعی ہیں کیونکہ حضور انور نے اس کے باپ حکم کو طائف کی طرف نکال دیا تھا یہ اس کے ساتھ تھا،دمشق میں فوت ہوا   ۶۵ھ؁ میں مرا،اس سے بہت صحابی حتی کہ حضرت عثمان و علی اور عروہ ابن زبیر اور امام زین العابدین نے بھی اس سے احادیث لیں۔(اکمال)یہ امیر معاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا۔

۵؎ یعنی میری کچھ زمین حضرت سعید ابن زید نے غصب کرلی ہے مجھے واپس دلوائی جاوے۔

۶؎ یعنی یہ ناممکن ہے کہ میں صحابی رسول ہوکر اور زمین کے غصب کے متعلق سرکار کا فرمان عالی سن کر پھر کسی کی انچ بھر زمین غصب کروں۔

۷؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ آسمان کی طرح زمین بھی سات ہیں اور وہ سات زمینیں سات ملک نہیں بلکہ اوپر تلے تہ بہ تہ سات طبق ہیں ورنہ سات زمینیں حنسلی بنا کر گلے میں ڈالنے کے کیا معنی،اس کی تائید اس آیت سے ہے"سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ"۔

۲؎ یہاں بینہ سے مراد دلیل ہے نہ کہ گواہ کیونکہ حضرت سعید ابن زید مدعیٰ علیہ تھے،آپ پر گواہ لازم نہ تھے قسم ضروری تھی یعنی میں آپ سے قسم بھی نہ لوں گا بغیر قسم آپ کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں ایسا شخص کسی کی زمین غصب نہیں کرسکتا۔

۹؎ حضرت سعید نے یہ زمین ارویٰ بنت اوس کے حوالے کردی اور یہ بددعا ساتھ میں دی کہ خدایا یہ زمین اگر اس کی نہ ہو تو اسے اندھا بھی کردے اور اس زمین میں اسے ہلاک بھی کردے جو میں نے اس کے حوالہ کی ہے۔(مرقات)ارضھا سے مراد ہے اس عورت کی یہ مقبوضہ زمین نہ کہ اس کی مملوکہ زمین۔

۱۰؎ اس زمین میں ایک کنواں تھا اس کنویں میں گر کر مری۔

۱۱؎ محمد ابن عبداللہ تابعی ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں،حضرت عمر ضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی ہے ان سے احادیث لی ہیں۔

۱۲؎ یعنی اس عورت نے آج اقرار کرلیا کہ حضرت سعید سچے تھے میں جھوٹی اور ان کی بددعا سے مجھ پر یہ آفات آئی ہیں۔شیخ سعدی فرماتے ہیں  ؎

تواں بہ حلق فرو بردن استخوان درشت 		ولے شکم بہ درد چوں بگیرداندر ناف

ظلم کی چیز ایک سخت ہڈی ہے جو نگل لینے کے بعد پیٹ پھاڑ ڈالتی ہے۔

۱۳؎ اس سے بظاہر معلوم ہو رہا ہے کہ اس کی نعش کنویں سے نکالی نہ جاسکی نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جاسکی نہ کفن دفن ہوسکا یہ ہے اللہ کے مقبول بندے کی بد دعا  ؎

بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن 		اجابت ازدرحق بہر استقبال می آید

مظلوم کی بددعا قبولیت کے پاس نہیں جاتی بلکہ قبولیت اس کے پاس آتی ہے۔اس حدیث میں حضرت سعید کی کرامت کا ثبوت ہے کہ جو آپ کے منہ سے نکلا وہ ہوبہو پورا ہوا اسی لیے اسے بابِ کرامات میں لائے۔
حدیث نمبر199
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ جناب عمر نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنایا جنہیں ساریہ کہا جاتا تھا ۱؎ تو جب کہ جناب عمر خطبہ پڑھ رہے تھے ۲؎کہ اچانک چیخنے لگے اے ساریہ پہاڑ کو لو۳؎ پھرلشکر سے ایک قاصد آیا بولا اے امیر المؤمنین ہم کو ہمارا دشمن ملا انہوں نے ہم کو بھگادیا تو کوئی چیخنے والا بولا اے ساریہ پہاڑ کو لو ہم نے اپنی پیٹھیں پہاڑ کی طرف لگالیں تب انہیں اللہ تعالٰی نے بھگادیا(بیہقی دلائل النبوۃ)
شرح
۱؎ یہ لشکر مقام نہاوند میں بھیجا گیا تھا،نہاوند جنوبی ہمدان کے پہاڑوں کے پاس مشہور بستی ہے،ہمدان ملک فارس میں ہے،ان سردار کا نام حضرت ساریہ ابن زنیم ہے۔(مرقات)

۲؎ یعنی جمعہ کے دن نماز سے قبل خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے حضرت ساریہ کو پکارا دوران خطبہ خطیب لوگوں سے کلام دنیاوی بھی کرسکتا ہے اور یہ کلام تو خالص دینی تھا کہ جہاد میں مدد فرمانا مقصودتھا۔

۳؎ حضرت ساریہ نہاوند میں جہاد کررہے تھے کفار نے اپنی فوج کا کچھ حصہ پہاڑ کے پیچھے کرلیا تاکہ وہ پہاڑ کے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کردیں انہیں گھیرے میں لے رہے تھے،حضرت ساریہ اس سازش سے بے خبر تھے،مدینہ منورہ سے حضرت عمر نے انہیں پکارا کہ اے ساریہ پہاڑ کو دیکھو یا یہ مطلب ہے کہ اے ساریہ پہاڑ کو اپنی پناہ بنا کر لڑو تاکہ تم پر پیچھے سے حملہ نہ ہوسکے،حضرت ساریہ اس ہدایت سے سنبھل گئے رب نے فتح دی۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اللہ والے دور کو نزدیک کی طرح دیکھ لیتے ہیں۔دوسرے یہ کہ اپنی آواز دور تک پہنچادیتے ہیں۔تیسرے یہ اللہ والے دور سے مدد کرتے ہیں۔حضرت آصف ابن برخیا کا واقعہ تو قرآن مجید میں مذکور ہے کہ آپ ایک آن میں ملک یمن کے شہر سبا سے تخت بلقیس فلسطین میں دربار سلیمانی میں اٹھا لائے"اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡکَ طَرْفُکَ"۔آج سائنس نے یہ سارے کام کرکے دکھا دیئے تو کیا نوری قوت ناری طاقت سے کم ہے،ابھی حال میں روس نے ایک راکٹ میں کتیا بٹھا کر فضا آسمانی میں بھیجی وہ بتیس ہزار میل بلند فضا میں راکٹ میں اڑ رہی تھی اور روس کا محکمہ اطلاعات طاس برخبر دے رہا تھا کہ اب کتیا سورہی ہے اب کھارہی ہے اب بھونک رہی ہے،اب اس کے خون کا دباؤ کتنا ہے،اب اس کا علاج یہاں سے کیا جارہا ہے پھر خبر دی کہ آج وہ کتیا مرگئی اس کتیا کا نام لائیکا تھا۔اخبارات میں یہ خبر برابر شائع ہوتی رہیں ریڈیو بولتا رہا سارے توحید پرست اس پر ایمان لاتے رہے کسی نے اس پر شرک کا فتویٰ نہ دیا۔
Flag Counter