Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم
169 - 952
حدیث نمبر169
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا کہ جب غزوہ تبوک کا دن ہوا تو لوگوں کو بھوک نے گھیرلیا ۱؎ جناب عمر نے عرض کیا یارسول اﷲ ان لوگوں سے ان کے بچے ہوئے تو شے منگائیے پھر ان کے لیے اﷲ سے اس کھانے پر برکت کی دعا کیجئے فرمایا ہاں ۲؎  چنانچہ دستر خوان منگایا اسے بچھایا پھر ان کے بچے ہوئے توشے منگائے تو کوئی شخص ایک مٹھی جوار لانے لگا اور کوئی ایک مٹھی چھوہارے اور کوئی دوسرا روٹی کا ٹکڑا ۳؎ حتی کہ دستر خوان پر تھوڑی سی چیز جمع ہوگئی ۴؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے برکت کی دعا کی پھر فرمایا کہ اسے اپنے برتنوں میں لے لو ۵؎ چنانچہ لوگوں نے اپنے برتنوں میں لے لیا حتی کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا مگر اسے بھر لیا پھر کھایا حتی کہ سیر ہوگئے اور باقی بچ رہا۶؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں ۷؎ کوئی بندہ اس گواہی کو لے کر اﷲ سے نہ ملے گا جب کہ شک نہ کرے پھر وہ جنت سے حجاب میں بھی رہے ۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ تبوک ایک مشہور بستی ہے حجاز اور شام کے درمیان خیبر سے پانچ سو میل جانب عمان ہے اور خیبر مدینہ منورہ سے ایک سو چالیس میل ہے تبوک کو بعض نحویوں نے منصرف مانا ہے مگر قوی یہ ہے کہ یہ غیر منصرف ہے کہ وزن فعل ہے اور علم، بعض نے کہا کہ تانیث ہے اور علم مگر قوی یہ ہے کہ مونث نہیں کہ ایک جگہ کا نام ہے جگہ مذکر ہے۔یہ غزوہ          ۹؁ ہجری ماہ رجب میں ہوا یہ حضور انور کا آخری غزوہ ہے اونٹ کی سواری سے مدینہ منورہ سے ایک ماہ کا راستہ ہے،اب تو ہوائی جہاز مدینہ منورہ سے عمان ڈھائی گھنٹہ میں پہنچ جاتے ہیں۔اسی غزوہ کا ذکر سورۂ توبہ شریف میں ہے یہ غزوہ سخت گرمی میں واقع ہوا تھا لوگوں پر بہت سختی تھی۔

۲؎  اولًا لوگوں نے حضور انور سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی اجازت دے دی گئی لوگ اونٹ ذبح کرکے کھانے لگے کئی اونٹ ذبح ہوگئے تب جناب فاروق اعظم نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ اس طرح ہماری ساری سواریاں ختم ہوجائیں گی پھر جہاد اور سفر کیسے ہوگا۔حضو ر ذبح روک دیں اور یہ کرم فرمادیں آپ کی زبان پاک میں سب کچھ ہے۔شعر

تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے 		پڑے ہوئے تو سررہگزار ہم بھی ہیں 

۳؎ غور کرو کہ شاہی فوج کا راشن یہ تھا اس بے سرو سامانی میں کیسے کام انجام دیئے دنیا اس سے دست بدنداں ہے آج کل فوجوں کے راشن اور ان کے آرام و عیش بھی دیکھو۔

 ۴؎ یہ سب کچھ مل کر اتنا بھی نہ تھا کہ ایک دن کا کھانا بھی ہوجائے۔

۵؎  یعنی ان موجودہ چیزوں میں سے جو بھی چاہو جتنی چاہو لے لو اپنے برتن ہر چیز سے بھر لو اس طرح کہ جتنا پہلے تھا اتنا ہی بچ رہا جیسا کہ دوسری روایات میں ہے۔

۷؎  اس گواہی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم رب تعالٰی کی توحید کے بھی گواہ ہیں اور اپنی نبوت کے بھی گواہ جیسے رب تعالٰی خود اپنی وحدانیت کا گواہ ہے فرماتا ہے:"شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ"اور حضور انور کی یہ گواہی ہم سے گواہی دلوانے ہم کو گواہ بنانے کے لیے ہے۔دوسرے یہ کہ معجزات اور آیات دیکھ کر بندہ کا یقین اور زیادہ ہوجانا چاہیے اور زیادتی یقین پر گواہی دینا سنت ہے گویا اب دیکھ کر نبوت و وحدانیت کی گواہی دے رہا ہے پہلے سن کر گواہی دی تھی اب دیکھ کر گواہی دی۔

۸؎ یعنی یہ ناممکن ہے کہ بندہ کا توحید و رسالت پر خاتمہ ہو اور پھر وہ جنت میں کبھی نہ جائے وہ جنت میں ضرور جائے گا خواہ اولًا ہی وہاں پہنچے یا کچھ سزا پا کر پاک و صاف ہو کر مگر شرط یہ ہے کہ اس گواہی میں تردد نہ کرے دل کے یقین سے گواہی دے لہذا اس بشارت سے منافقین خارج ہیں۔خیال رہے کہ ان جیسی احادیث میں کلمہ سے مراد سارے ایمانی عقائد ہوتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ نماز میں الحمد پڑھنا واجب ہے الحمد سے مراد ہے پوری سورۂ فاتحہ لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مرزائی چکڑالوی سب ہی کلمہ پڑھتے ہیں کیا سب جنتی ہیں حضور فرماتے ہیں کہ میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے سارے دوزخی ہوں گے سواء ایک کے۔
Flag Counter