| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب خطبہ پڑھتے تو کھجور کے ایک ڈنڈے سے ٹیک لگا لیتے تھے جو مسجد کے ستونوں میں سے تھا ۱؎ پھر جب حضور کے لیے منبر بنادیا گیا تو آ پ اس پر جلوہ گر ہوئے تو جس ڈنڈا کے پاس آپ خطبہ پڑھتے تھے وہ چیخ پڑا حتی کہ قریب تھا کہ چرجاوے ۲؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم منبر سے اترے حتی کہ اسے پکڑا اپنے سے چمٹایاتو وہ سسکیاں بھرنے لگا اس بچے کی سسکیوں کی طرح جسے چپایا جاوے ۳؎ حتی کہ قرار پکڑگیا،راوی نے کہا کہ وہ اس ذکر الٰہی پر رویا جو وہ سنا کرتا تھا ۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ اس ستون کا نام اسطوان حنانہ ہے،حنانہ بنا ہے حنین سےبمعنی باریک آواز سے رونا یہ ستون محراب النبی کے بائیں طرف بالکل متصل ہے اب وہاں اینٹ کا ستون ہے اسے اسطوان حنانہ ہی کہتے ہیں۔یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب منبر نہیں بنا تھا حضور انور زمین پر ہی کھڑے ہو کر خطبہ فرماتے تھے۔ ۲؎ رونے کی یہ آواز تمام صحابہ نے سنی یہ ستون کیوں رویا اس کے متعلق بعض ظاہربین لوگوں نے کہا ہے کہ وہ ذکر الٰہی سنا کرتا تھا اب اس سے محروم ہوگیا لہذا ذکر کی محرومی پر رویا۔یہ محض غلط ہے آج ہم لوگ بھی ذکر الٰہی کرتے ہیں ستون کیوں نہیں روتے ،نیز خطبہ کی آواز تو اب بھی اس ستون تک آرہی تھی کہ وہ منبر سے بالکل ہی قریب تھا، نیز پھر وہ حضور کے سینہ سے لگالینے پر خاموش ہوگیا وجہ صرف یہ تھی کہ اس نے یہ کہا۔ شعر مسندت من بودم از من تاختی برسر منبر تومسند ساختی در فراق تو مرا چوں سوخت جان چوں نہ نالم بے تو اے جان جہاں یہ گریہ وزاری اس لیے تھا کہ وہ جمعہ کے دن پشت پاک مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے بوسہ لیتا تھا آج اس وصال کی نعمت سے محروم ہوگیا اس فراق پر رویا۔ ۳؎ یعنی جب حضور انور نے اس ستون کو اپنے سینہ پاک سے لگایا تو وہ اس طرح سسکیاں بھرنے لگا جیسے روتے بچے کو ماں سینے سے لگائے تو وہ خاموش ہونے سے پہلے سسکیاں بھرتا ہے۔اس واقعہ سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ تمام حسینان جہاں صرف انسانوں کے محبوب رہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے انوکھے حسین ہیں کی ساری مخلو ق کے محبو ب ہیں کیوں نہ ہو ں خالق کے محبوب ہیں،دیکھو لکڑیاں فراق میں گریہ و زاری کررہی ہیں دوسرے یہ کہ سارے حسینوں کا یہ حال ہے کہ انہیں دیکھا ہزاروں نے مگر عاشق ہوا ایک۔حسن یوسف کی عاشق صرف زلیخا،لیلی پر فریفتہ صرف مجنوں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم ایسے حسین ہیں کہ آج انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں مگر جاں نثار عاشق لاکھوں،حسن یوسفی صرف بازار مصر میں چمکا،حسن محمدی ہر جگہ تا ابد چمک رہا ہے۔ حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں سرکٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردانِ عرب ۴؎ یہ حاشیہ آرائی صرف قتادہ کی ہے کہ ستون ذکر الٰہی پر روتا تھا مگر قتادہ صاحب کے ذکر پر کبھی کوئی ستون نہیں رویا یہ غلط ہے فراق رسول میں روتا تھا۔خواجہ حسن بصری جب یہ حدیث پڑھتے تو بہت روتے تھے فرماتے تھے کہ حضور کے عشق میں خشک لکڑی روئی تم اس لکڑی سے کم نہ ہو۔علماء فرماتے ہیں کہ چاند چرنے اور ستون کے رونے کی حدیثیں معنًی متواتر ہیں لفظًا مشہور مستفیض ہیں۔(اشعۃ اللمعات)یہاں مرقات نے فرمایا کہ ستون قربِ رسول فوت ہونے پر رویا تھا۔