| مرآۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد ہشتم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرات زید جعفر،ابن رواحہ کی خبر موت لوگوں کو سنائی ۱؎ ان کی خبر آنے سے پہلے تو فرمایا کہ جھنڈا زید نے لیا وہ شہید ہوگئے پھر جعفر نے لیا اور وہ بھی شہید ہوگئے پھر ابن رواحہ نے لیا وہ بھی شہید ہوگئے ۲؎ آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں حتی کہ جھنڈا اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے لیا ۳؎ یعنی خالد ابن ولید نے حتی کہ اﷲ نے ان پر فتح دی ۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ یہ و اقعہ غزوہ موتہ میں ہوا جو ۸ آٹھ ہجری میں ہوا،اس غزوہ میں مسلمان تین ہزار تھے اور ہرقل کی رومی فوج ایک لاکھ تھی۔(مرقات،اشعہ) ۲؎ حضور انور نے لشکر اسلام روانہ فرماتے وقت سپہ سالار مقرر فرمادیئے تھے کہ اولًا زید ابن حارثہ سپہ سالار ہوں گے،پھر حضرت جعفر ابن ابی طالب طیار،پھر ان کی شہادت کے بعد عبداﷲ ابن رواحہ ہوں گے۔موتہ میں یہ حضرات یکے بعد دیگرے شہید ہورہے تھے اور یکے بعد دیگرے جھنڈا لے رہے تھے اور یہاں حضور مسجد نبوی شریف میں ان تمام واقعات کی خبر دے رہے تھے یہ ہے حضور انور کا علم غیب بلکہ حاضر و ناظر ہونا آج دوربین کے ذریعہ انسان دور کی چیز دیکھ لیتا ہے۔تو نبوت کی دوربین کا کیا کہنا اس زمانہ میں جھنڈا لشکر کے سردار کے ہاتھ میں ہوتا تھا حضور انور کا یہ فرمان کہ جھنڈا فلاں نے لیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امیر لشکر بن گئے۔ ۳؎ حضور انور نے جناب خالد کو امارت کے لیے منتخب و نامزد نہیں کیا تھا حضرت عبداﷲ ابن رواحہ کی شہادت پر جناب خالد نے خود جھنڈا لے لیا اور لشکر کے امیر بن گئے۔سیف اﷲ سے مراد ہے بڑے بہادر،اﷲ تعالٰی کی طرف نسبت عظمت کے لیے ہے اس دن حضرت خالد نے کفار اس قدر قتل کیے کہ آپ کے ہاتھ میں سات تلواریں ٹوٹیں اس زمانہ میں تلوار توڑ دینا بڑی بہادری کی علامت تھی۔غالبًا اس دن سے حضرت خالد کا لقب سیف اﷲ ہوا،حضرت خالد نے شہادت کی بہت تمنا کی مگر میسر نہ ہوئی کیونکہ اﷲ کی تلوار کون توڑتا۔ ۴؎ غزوہ موتہ میں تین ہزار مسلمانوں نے ایک لاکھ رومیوں پر فتح پائی آج مشرق وسطیٰ یعنی فلسطین وغیرہ میں مسلمان پانچ کروڑ سے زیادہ ہیں مگر بیس لاکھ اسرائیلی ان کے لیے آفت بنے ہوئے ہیں قوتِ ایمانی بڑی طاقت ہے۔شعر بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے