جائے گا: اے انسان! کیاتو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی؟ تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی؟تو وہ کہے گا : بخدا! اے میرے رب ! کبھی نہیں ، مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی (مسلم ص ۱۵۰۸حدیث ۲۸۰۷)
’’ایمان ‘‘ کا لباس (حکایت)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی کوئی آفت آ پڑے خواہ طویل عرصے تک بے رُوزگاری یا بیماری دُور نہ ہو یا مسائل حل نہ ہوں ،ہر موقع پر صِرف صَبْر صَبْر اور صَبْرسے کام لینا اور آخِرت کا ثواب حاصِل کرنا چاہئے۔ حضرتِ سیِّدُنا داوٗ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے بارگاہِ خُداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں عَرض کی:اے میرے رب!تیری رِضا کے حصول کے لیے جومصیبتوں پر صَبْر کرتا ہے اُس پریشان انسان کا بدلہ کیا ہے ؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا: اُس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اُسے ایمان کا لباس پہنائوں گا اور اُس سے کبھی بھی نہیں اُتاروں گا۔ (اِحیائُ العُلُوم ج۴ ص۹۰)اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
وہ عشقِ حقیقی کی لذّت نہیں پاسکتا
جو رنج و مصیبت سے دو چار نہیں ہوتا