Brailvi Books

مینڈک سُوار بچّھو
8 - 27
 باتوں میں سے کون سی بات اختیار کرنا چاہتے ہیں ؟ {۱}آپ کی آنکھیں روشن ہو جائیں اور قِیامت کے روز آپ سے بینائی کی نعمت کا اور دیگر اعمال کا حساب لیا جائے {۲}آپ نابینا ہی رہیں اور بِغیر حساب و کتاب جنت کاداخِلہ نصیب ہو جائے؟میں نے عر ض کی: جنت میں بے حساب داخِلہ چاہئے۔ مجھے نابینا رہنا منظور ہے ۔(شواہِدُالنُّبُوَّ ۃ، ص ۲۴۱ مُلَخَّصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دُکھیاراسب تکلیفیں بھول جا ئے گا!
 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اُخروی مصیبتوں کے سامنے دُنیوی راحتوں کی کوئی حقیقت نہیں ، جہنَّم کا صرف ایک جھونکا عمر بھر کی راحت سامانیوں کو بُھلا اور خاک میں ملا کر رکھ دے گا ،اسی طرح اُخروی نعمتوں کے سامنے دُنیوی تکلیفوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ، جنّت کاصِرْف ایک پھیرا زندَگی بھر کی تکلیفوں کونَسیاً مّنسیا(نَسْ۔یَم۔مَنْسی ۔یا یعنی بُھولا بِسرا) کردے گا اوردُکھیارابندہ اپنے سارے دکھ بھول کر یہی سمجھے گا کہ مجھے کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیںجیسا کہ تاجدارِ مدینہ ،قرارِ قلْب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ا فرمانِ باقرینہ ہے : قِیامت کے دن اس دوزخی کو لایا جائے گا جسے دنیا میں سب سے زیادہ نعمتیں ملیں اور اسے جہنَّم کاایک جھونکا دے کر پوچھا جائے گا :اے آدمی! کیا تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی؟کیا تجھے کبھی کوئی نعمت ملی تھی؟ تو وہ کہے گا:’’ خدا  عَزَّ وَجَلَّکی قسم! نہیں ۔‘‘ پھر اُس جنَّتی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف میں رہااوراُسے جنت کا غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے پوچھا