Brailvi Books

مینڈک سُوار بچّھو
7 - 27
 مجھ سے مانگے گا میں تجھے عطا فرمائوں گا یا تو جلد ہی تجھے دے دوں گا یااسے تیری آخِرت کیلئے ذخیرہ کردوں گا۔‘‘  (اَلْمَرَض وَالْکَفّارات مع موسوعۃ ابن اَبِی الدُّنْیا ج ۴ص۲۸۵حدیث۲۱۲)
	دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ853 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’جہنَّم  میں لے جانے والے اعمال‘‘ جلداوّل صَفْحَہ 525 پر ہے : حضرتِ مَدائنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں : میں نے جنگل میں ایک عورَت کو دیکھا تو گمان کیا کہ شاید یہ بَہُت خوشحال ہے، لیکن اس نے بتایا :’’وہ غموں اور پریشانیوں کی ہم نشین ہے ، ایک مرتبہ اس کے شوہر نے ایک بکری ذَبح کی تو اس کے بیٹوں میں سے ایک نے اپنے بھائی کو اسی طرح ذَبح کرنے کا ارادہ کیا اور اسے ذَبح کر دیا پھر وہ گھبرا کر پہاڑ کی طرف بھاگ گیا اور بھیڑیا  (WOLF)اسے کھا گیا، اس کا باپ اس کے پیچھے گیا اور پیاس کی شدت سے وہ بھی مر گیا۔‘‘ تو میں نے اس سے پوچھا :تمہیں صَبْر کیسے آیا؟ اس نے جواب دیا:وہ تکلیف تو ایک زَخم تھا جوبھر گیا۔	
 مجھے نابینا رہنا منظور ہے
     حضرتِ سیِّدُنا ابوبَصیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَدۡ یِر (جو کہ نابینا تھے ) فرماتے ہیں: میں ا یک بارحضرتِ سیِّدُنا امام باقر عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ	القادرکی خدمتِ سراپاعَظَمت میں حاضِر ہوا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو آنکھیں روشن ہو گئیں ، جب دوبارہ ہاتھ پھیرا تو پھر نابینا ہو گیا۔حضرتِ سیِّدُنا امام باقرعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ القادرنے مجھ سے فرمایا: آپ ان دونوں