غَزوَۂ اَحزاب کی مُتَعَلِّق نازِل ہوئی جہاں مسلمانوں کو سردی اور بھوک وغیرہ کی سخت تکلیفیں پہنچی تھیں ۔اس میں انہیں صَبْر کی تلقین فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ راہ ِخدا میں تکالیف برداشت کرناقدیم سے خاصانِ خدا کا معمول رہا ہے ،ابھی تو تمہیں پہلوں کی سی تکلیفیں پہنچی بھی نہیں ۱؎ ’بخاری شریف‘‘ میں حضرتِ سیِّدُناخَبّاب بن اَرَت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حضور سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’ تم سے پہلے لوگ گرِفتار کئے جاتے تھے، زمین میں گڑھا کھود کر اُس میں دبادیئے جاتے تھے پھر آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کردیئے جاتے تھے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت نوچے جاتے تھے اور ان میں سے کوئی مصیبت انہیں ان کے دین سے روک نہ سکتی تھی۔‘‘(بُخارِی ج ۴ ص ۳۸۶ حدیث ۶۹۴۳ مُلَخّصاً)
مُصیبت چُھپانے کی فضیلت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیماری اور پریشانی پرشِکوہ کرنے کے بجائے صَبْر کی عادت بنانی چاہئے کہ شکایت کرنے سے مُصیبت دُور نہیں ہوجاتی بلکہ بے صبری کرنے سے صَبْرکا اَجرضائِع ہو جاتا ہے ۔بِلا ضَرورت بیماری و مُصیبت کا اِظہار کرنا بھی اچّھی بات نہیں ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا:’ ’جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱ خزائن العرفان ص۷۱۔