Brailvi Books

مینڈک سُوار بچّھو
17 - 27
 بڑا نازُک مُعامَلہ ہے ،شیطان ہر وَقت ایمان کی گھات میں لگا رَہتا ہے۔ مصیبت آنے پر صَبْر کرتے ہوئے ہر حال میںربِّ ذوالجلال عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا پرراضی رَہنا چاہئے ۔ پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّہمارا مالِک ومختار ہے۔ جسے چاہے بے حساب جنت میں داخِل فرمائے اور جسے چاہے امتحان میں مُبتلا کر کے صَبْر کی توفیق عطا فرما کر انعام و اِکرام کی بارِشیں فرمائے۔ مومِنِ کامِل وُہی ہے جو ہر حال میں ربِّ ذوالجلال عَزَّ وَجَلَّکا شکر گزار بندہ بن کر رہے ۔ مصیبتوں کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّپر اعتراض کر کے خود کو ہمیشہ کیلئے جہنَّم کے حوالے کر دینے والا شخص بَہُت ہی بڑا بد نصیب ہے۔ ہر مسلمان کو امتحان کے لئے تیّار رَہنا چاہئے، خدائے رَحۡمٰنعَزَّ وَجَلَّکا پارہ2 سُوْرَۃُ الْبَقْرَہ کی آیت نمبر214  میں   فرمانِ عبرت نِشان ہے: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنۡ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوْا مِنۡ قَبْلِکُمۡ ؕ
ترجَمۂ کنزالایمان: کیا اِس گُمان میں ہوکہ جنَّت میں چلے جاؤگے اور ابھی تم پر اَگلوں کی سی رُوْدَاد  (حالت)نہ آئی۔
کنگھیوں سے گوشت نوچے جاتے تھے
        صدرُ الاَْفاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی خَزائِنُ الْعِرْفان صَفحَہ71 پر مُنْدَرَجَۂ بالا آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں: اور جیسی سختیاں اُن( یعنی اگلے مسلمانوں ) پر گزر چکیں ابھی تک تمہیں پیش نہ آئیں ۔ یہ آیت