میرے ہیں اور مصیبت بھی میرے اختیار میں ہے اور سب میری حَمْد کے ساتھ میری تسبیح کر تے ہیں، مومِن کے ذِمّے گناہ ہوتے ہیں تو میں اُس سے دنیا کو دُور کر کے اس کو آزمائش میں ڈالتا ہوں تو یہ (آزمائش و مصیبت) اس کے گناہوں کا کَفّارہ بن جاتی ہے حتّٰی کہ وہ مجھ سے ملاقات کرے گا تو میں اُسے نیکیوں کا بدلہ دُوں گا۔ اور کافِر کی (دُنیوی اعتبار سے) کچھ نیکیاں ہوتی ہیں تو میں اُس کیلئے رِزْق کُشادَہ کرتا اور مصیبت کو اُس سے دُور رکھتا ہوں تویوں اُس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیتا ہوں حتّٰی کہ جب وہ مجھ سے ملاقات کرے گا تو میں اُس کے گناہوں کی اس کو سزادوں گا۔ (اِحیاء العلوم ج ۴ ص ۱۶۲)
ہاتھوں ہاتھ سزا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ربُّ الانام عَزَّ وَجَلَّکے ہر ہرکام میں حِکمتیں ہوتی ہیں ۔ تکلیف پر صَبْر کر کے اجْر حاصِل کرنا چاہئے کیوں کہ آفات و بَلِیّات، کَفّارۂ سَیِّئآت اور باعثِ ترقّیِ دَرَجات ہوتی ہیں۔(یعنی آفتیں اور بلائیں گناہ مٹانے اور درجے بڑھانے کا ذریعہ ہوتی ہیں)چُنانچِہ تاجدارِ رسالت ، محبوبِ ربِّ العزَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اُس کے گناہ کی سزافوری طور پراُسے دنیاہی میں دے دیتا ہے ۔ (مُسنَد اِمام احمد بن حَنبل ج ۵ ص۶۳۰حدیث ۱۶۸۰۶)
آخِرت کی مصیبت سے دنیا کی مصیبت آسان ہے
آہ! ہم تو گناہوں میں سراپا ڈوبے ہوئے ہیں، کاش!جب بھی کوئی مصیبت پیش آئے