Brailvi Books

مینڈک سُوار بچّھو
14 - 27
آسائشوں پر مت پُھولو!
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس روایت کے پیشِ نظر گاڑیوں، عمارتوں، دولتوں، صحّتوںاور طرح طرح کی نعمتوں کی اپنے اوپر کثرت کو دیکھ کر ڈر جانا چاہئے کہ کہیں یہ دنیا میں نیکیوں کی جزا نہ ہو اور غربتوں ، آفتوں، بیماریوں اور طرح طرح کی مصیبتوں کا اپنے اوپر سلسلہ دیکھ کر صبر کرنا اور دل بڑا رکھنا چاہئے کہ ہو سکتا ہے یہ آخِرت کی راحت سامانیوں کاپیش خَیمہ ہو۔ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دونوں جہانوںکی بھلائیاں طلب کرتے ہیں    ؎
ڈرتھا کہ عِصیاںکی سزا، اب ہو گی یا روزِ جزا
دی اُن کی رَحمت نے صدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مُصیبت کی عجیب حکمت (حکایت)
	حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا کہ  ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَامنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے دربار میں عرض کی: اے میرے ربُّ العزّت ! مومِن بندہ تیری اطاعت کرتا اور تیری معصیَت (نافرمانی)  سے بچتا ہے (لیکن) تُواِس سے دنیا لپیٹ لیتا اور اس کو آزمائشوں میں ڈالتا ہے۔ جبکہ  کافر تیری اطاعت نہیں کرتا بلکہ تجھ پر اور تیری مَعصیَت (نافرمانی) پرجُرْأَت کرتا ہے لیکن تُو اس سے مصیبت کو دُور رکھتا اور اُس کیلئے دنیا کُشادَہ کر دیتا ہے ( آخر اس میں کیا حکمت ہے؟) اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی طرف وَحی فرمائی: بندے بھی