صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کوئی بھلائی نہیں
حضرتِ سیِّدُنا ضَحّاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَزَّاقفرماتے ہیں :جو ہر چالیس رات میں ایک مرتبہ بھی آفت یافِکر و پریشانی میں مبتلا نہ ہو اُ س کیلئے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاں کوئی بھلائی نہیں ۔ (مُکاشَفَۃُ القُلُوب ص۱۵)
آفت و راحت کے بارے میں پُر حکمت رِوایت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُنیوی آفت و مصیبت مسلمان کے حق میں اکثر بَہُت بڑی نعمت ہوتی ہے،جیسا کہ منقول ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے: جب میں کسی بندے پر رحم فرمانا چاہتا ہوں تو اُس کی بُرائی کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتا ہوں، کبھی بیماری سے ، کبھی گھر والوں میں مصیبت ڈال کر، کبھی تنگیِ مَعاش(یعنی تنگدستی) سے، پھر بھی اگر کچھ بچتا ہے تو مرتے وقت اُس پر سختی کرتا ہوں حتّٰی کہ جب وہ مجھ سے ملاقات کرتا ہے تو گناہوں سے ایسا پاک ہوتا ہے جیسا کہ اُس دن تھا جس دن کہ اُس کی ماں نے اُسے جنا تھا۔ اور مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم کہ میں جس بندے کو عذاب دینے کا ارادہ رکھتا ہوں اُس کو اُس کی ہر نیکی کا بدلہ دُنیا ہی میں دیتا ہوں ، کبھی جسم کی صحّت سے، کبھی فراخیِ رِزق سے (یعنی روزی بڑھا کر)، کبھی اَہل وعیال کی خوش حالی سے ، پھر بھی اگر(نیکیوں کا بدلہ دینا) کچھ (باقی )رہ جاتا ہے تو مَرتے وَقت اُس پر آسانی کر دی جاتی ہے حتّٰی کہ جب مجھ سے ملتا ہے تو اُس کی نیکیوں میں سے (اس کے پاس) کچھ بھی (باقی) نہیں رہتا کہ وہ نارِ جہنَّم سے بچ سکے۔(شرحُ الصّدور ص ۲۸)