دل پذیر میں فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا بایزیدبسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامیکسی جگہ سے گزر رہے تھے، مُلاحظہ فرمایا، ایک بچّہ کیچڑ میں گر گیا ہے اور اس کا بدن اورلباس گندگی میں لتھڑگئے ہیں، لوگ دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں، کوئی پروا بھی نہیںکرتا! کہیں دُور سے ماں نے دیکھا، دوڑتی ہوئی آئی، دو تھپَّڑ بچے کے لگائے، کپڑے اُتار کر دھوئے ، اُسے غسل دیا ۔ حضرت(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) کو یہ دیکھ کر وَجد آ گیا اور فرمایا کہ یِہی حال ہمارا اور رَحمتِ الٰہی(عَزَّ وَجَلَّ) کا ہے۔ ہم گناہوں کی دَلدَل میں لِتھَڑ جاتے ہیں، کسی کو کیا پروا! مگر رحمتِ الٰہی (عَزَّ وَجَلَّ) کا دریا جوش میں آتا ہے ،ہم کو مصیبتوں کے ذَرِیعے دُرُست کیا جاتا ہے اور توبہ و عبادات کے پانی سے غسل دے کر صاف فرما تا ہے۔ (مُعلّمِ تقریر ص ۳۳ ملخصاً ) جب مہربان ماں کچھ سزا دیکر تنبیہ (تَمْ۔بِیْہ۔یعنی خبردار)کرسکتی ہے تو ہمارا خالِق و مالک عَزَّ وَجَلَّ اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے، بعض اوقات سزا دیکر اِصلاح فرماتا ہے ۔
ربِّ کائنات عَزَّ وَجَلَّمؤ مِنین و مؤمِنات کو اِمتحانات میں مبتَلاکر کے ان کے سیِّئآت( یعنی گناہ) مٹاتا اور دَرَجات بڑھاتا ہے۔ لہٰذا جب بھی مصیبت آئے پارہ 20 سُوْرَۃُالۡعَنۡکَبُوۡت کی دوسری آیتِ کریمہ کو ذہن میں لے آیئے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتْرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوۡنَ ﴿۲﴾(پ ۲۰، العنکبوت ۲)ترجَمۂ کنزالایمان: کیا لوگ اس گَھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دئیے جائیں کہ کہیں: ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی ۔