Brailvi Books

مینڈک سُوار بچّھو
11 - 27
 آرزو کر یں گے کہ کاش !وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے کہ آج یہ صَبْر کا اجر پاتے۔			(خزائن العرفان ص۸۵۰)
دَرِندوں نے پیٹ پھاڑ ڈالا تھا(حکایت)
	 حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ایک دن ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ دَرِندوںنے پھاڑکرگوشت نوچ لیاتھا۔ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اسے پہچان لیا، اس کے پاس کھڑے ہوئے اوردعا کی: یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ!یہ بندہ توتیرافرماں بردارتھا میں اِسے اِس حالت میں کیوں پاتا ہوں ؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے وحی فرمائی :’’ اے موسیٰ!اس نے مجھ سے وہ مقام طلب کیا جس تک اپنے اعمال کے ساتھ نہیں پہنچ سکتا تھا چُنانچِہ میں نے اسے اس مقام تک پہنچانے کے لئے اس مصیبت میں مبتلا کیاہے ۔‘‘(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۱۷۳)
کیچڑ میں لِتھڑاہوا بچّہ(حکایت)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حکایت سے معلوم ہوا کہ ربِّ کائنات عَزَّ وَجَلَّ بلندیِ درجات کیلئے بھی نیک بندوں کوامتحانات میں مبتلا فرماتا ہے، بے شک اللّٰہُربُّ العِزَّتعَزَّ وَجَلَّکے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔البتّہ یہ ضروری نہیں کہ صِرْف نیک بندوں ہی پر امتحان آئے ، بسا اوقات گنہگاروں کو بھی مصیبتوں میں مبتلا کر کے گناہوں کی آلودَگیوں سے پاک کیا جاتا  ہے۔چُنانچِہ  مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  اپنی تقریر