Brailvi Books

میٹھے بول کی برکتیں
28 - 32
 ان کی دوکان میں بیٹھ گیا۔ وہ انفرادی کوشش کے ذریعے مجھے نیکی کی دعوت دینے لگے اور فکرِ آخرت کرنے اور نیک اعمال بجالانے کا ذہن بنانے لگے۔ اسی دوران میری نظر اسی ضخیم کتاب پر پڑی جن سے وہ درس دیا کرتے تھے، اس پر بڑے لفظوں میں ’’فیضانِ سنّت‘‘ لکھا ہوا تھا، میں نے وہ کتاب ان سے پڑھنے کو مانگی تو انہوں نے بخوشی مجھے وہ کتاب دے دی اور میں مختلف مقامات سے اُسے پڑھنے لگا۔ کتاب کا اندازِ تحریر اس قدر آسان اور جلد سمجھ آنے والا تھا کہ میں ’’فیضانِ سنّت‘‘ پڑھنے میں مگن ہوگیا اور پندو نصائح کی موجوں میں غوطہ زن ہوگیا اور یوں فلم دیکھنے کا سارا وقت ’’فیضانِ سنّت‘‘ پڑھنے میں گزر گیا۔ اس کتابِ لاجواب کے مطالعے کا مجھے کچھ ایسا ذوق نصیب ہوا کہ اگلے روز شام کو فلم بینی کے لئے ہوٹل جانے کے بجائے میں مذکورہ اسلامی بھائی کی دوکان پہنچ گیا اور ’’فیضانِ سنّت‘‘ لے کر اسے پڑھنے میں مشغول ہوگیا، اس طرح میرا روز کا یہی معمول بن گیا، اب ہر شام ’’فیضانِ سنت‘‘ کے نام ہونے لگی اور میں فلم دیکھنے کا وقت اس سحر انگیز کتاب کے مطالعے میں صرف کرنے لگا۔ پھر ایک روز وہ مُبَلِّغ اسلامی بھائی مجھ سے کہنے لگے: منظور بھائی! آج چوک درس آپ دیں گے اور جو کچھ آپ نے اس کتاب سے حاصل کیا ہے اسے دوسروں تک پہنچائیں گے، یہ سن کر میں ایک دم گھبرا گیا اور میں نے ان سے معذرت چاہی مگر انہوں نے میری