Brailvi Books

میٹھے بول کی برکتیں
27 - 32
{7}گناہ کی طرف بڑھتے قدم کیسے رُکے؟
	باب الاسلام (سندھ) کے شہر زم زم نگر (حیدرآباد) کے مقیم اسلامی بھائی منظور احمد عطاری المدنی اپنے مکتوب میں کچھ اس طرح لکھتے ہیں : یہ اس وقت کی بات ہے جب میں آٹھویں کلاس کا طالب ِعلم تھا، کم عمر ہونے کے سبب فکروں سے آزاد اور آوارہ مزاج لڑکا تھا اور اسی وجہ سے جائزو ناجائز کے فرق کو بالائے طاق رکھ کر معمولاتِ زندگی سرانجام دے رہا تھا۔ میں روزانہ شام کے وقت ایک ہوٹل پر فلم دیکھنے جاتا تھا اور بدنگاہی اور گانے سننے کے گناہ سے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرکے آتا تھا۔ ایک روز معمول کے مطابق فلم دیکھنے ہوٹل کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں کسی نے مجھے آواز دی اور اپنی جانب متوجّہ کرنا چاہا، جب میں نے دیکھا تو مجھے سبز عمامہ شریف سجائے سنّتوں کے پابند ایک اسلامی بھائی نظر آئے، میں انہیں دیکھتے ہی پہچان گیا کیونکہ ہوٹل جاتے ہوئے انہی اسلامی بھائی کی راستے میں دوکان تھی اور وہ قریب ہی واقع ایک چوک پر روزانہ ایک ضخیم کتاب سے لوگوں کو درس دیا کرتے تھے، وہ میرے پاس آئے اور بڑے پرتپاک انداز میں مجھ سے سلام و مصافحہ کرنے لگے۔ انہوں نے مجھ سے حال احوال دریافت کیا اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے اپنی دوکان پر لے گئے اور ایک نمایاں جگہ پر بیٹھنے کے لیے کہا، ان کے خیرخواہی کے جذبے کو دیکھتے ہوئے میں