والی سزاؤں کو دِل ہلادینے والے انداز میں بیان فرمایا تھا۔ میں جیسے جیسے یہ بیان سنتا گیا میرے دِل میں ایک ہلچل سی بپا ہوتی گئی، مجھ پر خوفِ خُدا کا غلبہ ہونے لگا اور میراجسم کانپنے لگا۔ ایک ولیِ کامل کے پُرتاثیر بیان نے میرے دِل کی کایا پلٹ دی اور میرے اندر مدَنی انقلاب برپا ہوگیا۔مجھے گانے باجوں کے گناہ سے نفرت ہوگئی اورمیں نیکیاں کرنے کے جذبے سے سرشار ہوگیا، چنانچہ اس بیان کی برکت سے میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مقدس بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی، گانے باجے سننا چھوڑ دیے اور آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی نیّت کی۔ اعتکاف کی برکت سے میرے دل کی دنیا ہی بدل چکی تھی، دل میں علمِ دین حاصل کرنے کا جذبہ بیدار ہوچکا تھا چنانچہ علمِ دین کی انمول دولت حاصل کرنے کے لئے میں نے جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لے لیا اورعلمِ دین حاصل کرنے میں مشغول ہوگیا۔ عالمِ کورس کرنے کے دوران نیکی کی دعوت عام کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دسمبر 2006ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔ تادم ِتحریر جامعۃُ المدینہ سکھر (باب الاسلام سندھ) میں بحیثیت مدرس چار سال سے علمِ دین کی خدمت کر رہا ہوں مزیدکابینات سطح پر مجلسِ رابطہ بالعلماء والمشائخ کا ذمہ دار بھی ہوں ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد