سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا اپنا معمول بنالیا جس کی برکت سے رفتہ رفتہ دِل پر لگی گناہوں کی سیاہی دھلنے لگی، عاشقانِ رسول کی قرب کی برکت سے میرے اندر عمل کا ایسا جذبہ بیدار ہوا کہ پہلے نمازوں کے قضاہونے پر کوئی افسوس وملال نہیں ہوتا تھا مگر اب میں نمازوں کی پابند کے ساتھ ساتھ قبر وآخرت کی بہتری کی فکر سے سرشار ہوگیا۔ پھر جب رمضان المبارک کے مُقَدَّس مہینے کی آمد ہوئی تو مذکورہ اسلامی بھائی ایک بار پھرمیرے پاس تشریف لے آئے اورمجھے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے تربیتی اعتکاف میں بیٹھنے کی ترغیب دلانے لگے، دعوت ِاسلامی کے مدنی ماحول سے تو میں پہلے ہی متأثر ہوچکا تھا لہٰذا اس نیک کام کے لیے ہاتھوں ہاتھ تیار ہوگیا اور گھروالوں سے اجازت لیتا ہوا مدَنی ماحول میں اعتکاف کرنے جا پہنچا۔ تربیتی اعتکاف میں خوب نیکیاں کمانے، سنّتیں اپنانے اور علمِ دین حاصل کرنے کا موقع مُیَسَّر آیا، باجماعت نمازیں ادا کرنے اور اشراق و چاشت و اوابین کے نوافل پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اعتکاف کی ان مبارک گھڑیوں کے دوران ایک بار مدَنی حلقے میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دِل سوز بیان ’’گانے باجے کی ہولناکیاں ‘‘ کی کیسٹ چلائی گئی، یہ بیان میں بغور سننے لگا کیونکہ میں گانے باجے سننے کا بے حد شوقین تھا۔ اس بیان میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے گانے باجے سننے کی تباہ کاریوں اور اس کے سبب قبر و حشر میں ملنے