سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مختصر تعارف کرایا اور پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف بنام ’’فیضانِ سنت‘‘ مجھے تحفۃً دی، اس کتاب کی خصوصیات سے مجھے آگاہ کیا اور پڑھنے کی ترغیب دلاکر وہ مجھ سے رُخصت ہوگئے۔ میں ’’فیضانِ سنت‘‘ کا یہ قیمتی تحفہ لے کر خوشی خوشی گھر آگیا اور اس کے ابتدائی صفحات کا مطالعہ کرنے میں مشغول ہوگیا۔ اس دوران میری نظر سے ایک شہ سُرخی (ہیڈنگ) گزری جس کا موضوع تھا ’’کچھ مصنف کے بارے میں ‘‘ میں اسے پڑھنے لگا۔ جس میں امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عظیم الشان دینی خدمات کا ذکر تھا، آپ کے خوفِ خدااور عشقِ مصطفٰے کے ایمان افروز واقعات اور اخلاق وکردار اورسنّتوں سے پیار کے بارے میں پڑھ کر میرا ایمان تازہ ہوگیا۔ مزید اس میں آپ کے سنتِ رسول کو عام کرنے، گناہوں بھرے ماحول میں نیکی کی دعوت عام کرنے اور لوگوں کو احکامِ اسلام کی طرف راغب کرنے کا تذکرہ تھا۔امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مبارک زندگی کے ان پہلو ؤں کو پڑھ کر میرے دل کی دنیا زیر و زبر ہوگئی اور میرے اندر ایمانی شمع روشن ہوگئی۔ میں نے اسی وقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہونے کا تہیّہ کرلیا اور آپ