اپنی سابقہ گناہوں بھری زندگی اور اس سے توبہ کے احوال کچھ یوں زینتِ قرطاس کرتے ہیں : یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کا اسٹوڈنٹ تھا اور دنیوی فکروں سے آزاد تھا۔ اسکول کے آزادانہ ماحول نے مجھے آوارہ بنادیا تھا۔ اسی پُرفِتَن ماحول میں اسکول کے کچھ ایسے لڑکوں سے میری دوستی ہوگئی جو بے نمازی ، سنّتوں سے عاری اور فلموں ڈراموں کے عادی تھے، افسوس! میں بھی ان کی صحبت ِبد کی وجہ سے عاداتِ بد کا شکار اور شیطانی افکار میں گرفتار ہوگیا ۔دنیاوی لذَّات میں اس قدر انہماک ہوا کہ میں یاد الٰہی سے غافل ہوگیا۔جب گھروالوں کو پتا چلا کہ میں آوارہ لڑکوں کے ساتھ رہ کر بری عادتوں میں مبتلا ہورہاہوں ں تو انہیں بڑی تشویش ہوئی، وہ آئے دن مجھے پیار سے سمجھاتے اور بدنامِ زمانہ دوستوں سے دور رہنے کا کہتے مگر میں کسی صورت برے دوستوں کو چھوڑنے کے لیے آمادہ نہ ہوتابلکہ گھروالوں کی نصیحتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا۔ نمازوں میں سستی کایہ عالم تھا کہ مَعَاذَاللّٰہ کئی کئی ماہ مسجد کی حاضری سے محروم رہتا ۔ میری پُرخار زندگی میں نیکیوں کی بہارکچھ یوں آئی کہ ایک بار میری ملاقات دعوت ِاسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک مُبَلِّغ اسلامی بھائی سے ہوگئی جو ہمارے علاقے میں مقیم تھے۔ ان کے ملنے اور سلام و کلام کرنے کا انداز بڑا ہی منفرد تھا ۔ دورانِ ملاقات انہوں نے بڑ ے ہی اَحسن طریقے سے تبلیغِ قراٰن و