کی دوکان پر اکثر میرا آنا جانا لگا رہتا تھا ، ایک دن وہ مجھ سے کہنے لگے: توفیق بھائی! آپ قرآن مجید حفظ کررہے ہیں لیکن آپ کی عادات و اطوار عام لڑکوں کی طرح ہی ہیں ، آپ اپنے سر پر عمامہ تو دور کی بات ٹوپی تک نہیں پہنتے، اس طرح آپ کے اور اسکول و کالج کے عام لڑکوں کے درمیان کیا فرق رہ گیا۔ مزید کہنے لگے: میرا بھانجہ بھی سردارآباد (فیصل آباد) میں دعوتِ اسلامی کے مدرسۃُ المدینہ میں قراٰن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کررہاہے مگر اس کا اخلاق، کردار، طریقۂ گفتار نیز اپنے پرائے سے ملنے کا انداز قابلِ رشک ہے۔ جب وہ رمضان المبارک کی چھٹیوں میں گھر آئے تووہاں ہونے والی عملی تربیت دیکھ کر سب گھر والے بے حد خوش ہوئے ، ان کا معمول تھا کہ سنت کے مطابق کھاتے پیتے ، گھر میں داخل ہوتے وقت بلند آواز سے سب کو سلام کرتے، والدین کے ہاتھوں کو چومتے ، نظریں جھکاکر گفتگو کرتے، کھانے کے دوران سنتیں بیان کرتے اورسب گھر والوں کو سنتوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلاتے۔مدرسۃ المدینہ کے طالبِ علم کی یہ مدنی بہار سن کر مجھے اپنی بدعملی پر ندامت ہونے لگی چنانچہ میں نے ہاتھوں ہاتھ دعوتِ اسلامی کے مدرسۃُ المدینہ میں داخلہ لینے کی نیت کی اور اُسی سال سردارآباد (فیصل آباد) جا پہنچا اور مدرسۃُ المدینہ( فیضانِ مدینہ) مدینہ ٹاؤن میں داخلہ لے کر مدَنی ماحول کا فیضان پانے میں مشغول ہوگیا۔ کچھ ہی عرصہ میں