یہاں تک کہ سوراخوں میں چیونٹیاں اور سمندر میں مچھلیاں لوگوں کو خیر سکھانے والوں کی بھلائی کی خواہاں ہیں ۔‘‘ (ترمذی، کتاب العلم، باب فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴/۳۱۳، حدیث:۶۲۹۴)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{3}ماڈرن نوجوان کی توبہ کا راز
مُبَلّغِ دعوتِ اسلامی محمد اعجاز عطاری المدنی اپنی داستانِ عشرت اور اس کے خاتمے کے اسباب کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں فیشن کا دور دورہ تھا۔ دینی سوجھ بوجھ نہ ہونے کے سبب اسلامی احکام کی بجاآوری اور قبر و آخرت کی تیاری کا بالکل ذہن نہ تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی گھر کا ماحول اس گھر میں پرورش پانے والے پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے لہٰذا میں بھی اسی رنگ میں رنگ گیا۔ نت نئے فیشن اپنانا اور ایک ماڈرن نوجوان کی طرح زندگی کے ایام بسر کرنا میرا محبوب مشغلہ بن گیا۔ میری زندگی میں مدنی انقلاب کچھ اس طرح آیا کہ غالباً 1997ء کی بات ہے کہ ہمارے گاؤں بلال آباد میں پہلی بار سنتوں کی تربیت کا ایک مدنی قافلہ باب المدینہ کراچی سے تشریف لایا۔ اس پُرفتن دور میں سنتوں سے آراستہ و پیراستہ اسلامی بھائیوں کو دیکھ کر گاؤں والے بے حد متأثر ہوئے، جب ان سے ملاقات