کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوئے تقریباً 13 سال ہو چکے ہیں ۔ یہ سب میرے پیر و مرشد شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضان کی بہاریں ہیں کہ مجھ جیسے کرکٹ کے شائق کو کرکٹ کے میدان سے اٹھا کر مسندِ تدریس پر لا بٹھایا اوربازار کی رنگینیوں میں مست رہنے والے کو مسجد کے پاکیزہ ماحول میں لابسایا اور منبر و محراب کی زینت بنادیا۔ اپنے پیر و مرشد امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے صدقے ملنے والے ان انعامات پر میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ، بس آخر میں اتنا عرض کروں گا،
جب تک بکے نہ تھے تو کوئی پوچھتا نہ تھا
عطار نے خرید کر مجھے انمول کردیا
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاشبہ اچھے ماحول میں انسان اچھائی اور بھلائی کی طرف راغب ہوتا ہے جیسا کہ مذکورہ مدَنی بہار سے اس بات کا پتہ چلا کہ درسِ فیضانِ سنّت اور مدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائیوں کی صحبت کی برکت سے کرکٹ کا شیدائی نوجوان نہ صرف عالم اور مُدَرِّس بن گیا بلکہ تصنیف و تالیف کا اہم فریضہ سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ مفتی کورس بھی کرلیا ۔ آپ بھی مدَنی ماحول سے وابستہ ہو جایئے اور دعوتِ اسلامی کے متعارف کردہ حصولِ علمِ