(یعنی سمندر چڑھاہواہے اورموجیں طغیانی پر ہیں۔میں بے کس ہوں اور طوفان ہوش اُڑانے والاہے۔ میں بھنور میں پھنس گیا ہوں اورہوا بھی مخالف سمت چل رہی ہے۔ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ایسیحالت میں آپ میری کشتی کو کنارے لگا دیجیے۔)
شَیْخَیْن،طَرَفَیْن،صَاحِبَیْن اور صَحِیْحَیْن سے مُراد
عرض:شَیْخَـیْن،طَرَفَین،صاحِبَیْن،صَحِیْحَیْناورصِحاح سِتَّہ سے کیامُراد ہے؟
ارشاد: خلفاءِ راشدِین میں سے امیرالْمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق اور امیرالْمؤنین حضرتِ سیِّدُنافاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو ،مُحَدِّثِیْن میں سے اِمام محمد بن اِسمٰعیل بُخاری اور اِمام مسلم بن حَجَّاج قُشیریرَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی کواور اَئممیں سے امامِ اعظم نعمان بن ثابِت و امام ابویوسفرَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی کو شَیْخَـیْن کہا جاتا ہے ۔
حضرتِسیِّدُناامامِ اعظم ابوحنیفہ و حضرتِ سیِّدُنا اِمام محمدبن حسن شیبانی رَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی کو طَرَفَین اورحضرتِ سَیِّدُنا اِمام ابویوسف اور امام محمد بن حسن شیبانیرَحِمَہُمَا اللہ تعالٰی کو صَاحِبَیْن کہتے ہیں۔
احادیثِ مبارکہ کی دو مشہورکتابوں صحیح بُخاری اور صحیح مُسلِم کو ’’صَحِیْحَیْن‘‘ کہا جاتا ہے اور اگر ان کے ساتھ سُنَنِ اَرْبَعہ(سنن ابو داؤد،