قَسم!یہ جہاز نہ ڈوبے گا ۔ یہ قَسَم میں نے حدیث ہی کے اِطْمِینان پر کھائی تھی جس میں کشتی پر سوار ہوتے وقت غرق(یعنی ڈوبنے) سے حِفاظت کی دُعا)1 ( اِرشاد ہوئی ہے۔ میں نے وہ دُعا پڑھ لی تھی لہٰذا حدیث کے وعدۂ صادِقہ(یعنی سچے وعدے) پر مطمئن تھا ۔ پھر بھی قَسَم کے نکل جانے سے خود مجھے اندیشہ ہوا اور معاًحدیث یاد آئی :مَنْ یَّتأَلَّ عَلَی اللہِ یُکْذِبُہ (یعنی) جو اللہ تعالیٰ پر قسم کھائے ، اللہ اُس کی قسم کو رد فرما دیتا ہے۔)2 (حضرت عزّت (یعنی اللہ تعالیٰ) کی طرف رُجوع کی اور سر کارِ رِسالت(صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سے مدد مانگی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ (عَزَّ وَجَلَّ)کہ وہ مخالف ہَوا کہ تین دن سے بَشِدَّت چل رہی تھی دو گھڑی میں بالکل مَوقُوف ہوگئی(یعنی رُک گئی)اور جہاز نے نَجات پائی ۔)3 (
اَلْبَحْرُ عَلَا وَالْمَوْجُ طَغٰی، مَن بے کس وطوفاں ہوشربا
مَنجْدَھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا ، موری نَیَّا پار لگاجانا (حَدائِقِ بَخْشش)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… کشتی میں سوار ہوتے وقت کی دُعا: بِسْمِ اللہِ الْمَلِکِ الرَّحْمٰنِ مَجْرٖھَا وَمُرْسَاھَا اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ترجمہ: اللہ مالک ومہربان کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ (کنزالعمّال،ج۶،ص۳۰۳،حدیث۱۷۵۳۴)
2 … کنز العمّال،ج۱۵،ص۳۸۸ ،حدیث۴۳۵۸۰
(یعنی خواہ مخواہ حکمِ قطعی کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ضرور ایسا کرے گا جیسے کوئیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھاکر کہے کہ فلاں شخص جنت میں جائے گا ، فلاں دوزخ میں ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
3 … ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص ۱۸۱۔۱۸۲