Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 9:یقینِ کامل کی برکتیں
7 - 30
وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا)1 (جن جن اَمراض کے مریضوں، جن جن بَلاؤں کے مبتَلاؤ ں کو دیکھ کر میں نے اِسے پڑھا ،بِحَمْدِہٖ تَعَالٰیآج تک اِن سب سے محفوظ ہوں اور بِعَوْنہٖ تَعَالٰی(یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد سے) ہمیشہ محفوظ رہوں گا۔‘‘)2 (
	مزید فرماتے ہیں :میرے پاس اِن عَمَلِیات کے ذخائر بھرے ہیں لیکن بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی آج تک کبھی اِس طر ف خیال بھی نہیں کیا۔ ہمیشہ اُن دُعاؤں پر جواَحادیث میں اِرشاد ہوئیں عمل کیا ۔ میری تو تمام مُشکِلات اِنہیں سے حل ہوتی رہتی ہیں ۔(اِسی تذکرے میں فرمایا) دوسری بار جب کعبہ معظمہ حاضر ہوا ، یکایک(یعنی اچانک) جانا ہو گیا ، اپنا پہلے سے کوئی اِرادہ نہ تھا۔ پہلی بار کی حاضری حضرات والدین ماجِدَیْن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کے ہمراہ رِکاب (یعنی ہمراہی میں) تھی ۔ اُس وقت مجھے تئیسواں سال تھا۔ واپسی میں تین دن طوفان شدید رہا تھا، اِس کی تفصیل میں بہت طُول ہے ۔ لوگوں نے کَفَن پہن لئے تھے۔ حضرت والدہ ماجدہ کا اِضْطِراب(یعنی پریشانی) دیکھ کر اُن کی تسکین (یعنی تسلی)کیلئے بے ساختہ میری زبان سے نکلا کہ آپ اِطْمِینان رکھیں، خدا کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
… تِرمِذی،ج ۵، ص۲۷۲،حدیث ۳۴۴۲ 
2 … ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص ۶۹