ہو جائے۔
ارشاد: سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین پر اعتقاد و یقینِ کامل سے متعلق اعلیٰ حضرت،امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت، عاشقِ ماہِ نُبُوَّت ، پروانۂ شمعِ رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے دو واقعات ملاحظہ کیجیے، چنانچہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں: ’’(مجھے) بخار بہت شدید تھا اور گلے کے پیچھے گلٹیں۔ میرے منجھلے (مجھ سے چھوٹے) بھائی (مولانا حسن رضا خان ) مرحوم ایک طبیب کو لائے ،اُن دنوں بریلی میں مَرَضِ طاعون بشدّت تھا ، اِن صاحِب نے بغور دیکھ کر سات آٹھ مرتبہ کہا : یہ وُہی ہے ، وُہی ہے ،وُہی ہے یعنی مرضِ طاعون ۔ میں بالکل کلام نہ کرسکتا تھا اس لئے انہیں جواب نہ دے سکا حالانکہ میں خوب جانتا تھا کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں، نہ مجھے طاعون ہے ، نہ اِنْ شَآءَ اللہُ الْعَزِیز کبھی ہوگا، اِس لئے کہ میں نے طاعون زدہ کو دیکھ کر با رہا وہ دُعا پڑھ لی ہے جسے حُضُور سرورِ عالم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تعلیم فرمایاکہ جو شخص کسی بلا رَسیدہ (مصیبت زدہ) کو دیکھ کر یہ دُعا پڑھ لے گا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بَلا سے محفوظ رہے گا۔ وہ دُعا یہ ہے :اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ