عرض سے بے شمار لوگ شریکِ مَعاصی (گناہ) ہوتے ہیں، الغرض بے حیائی و فحاشی اور دیگر گناہوں کا بازار خوب گرم ہوتا ہے کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ ۔
ہرسال اس منحوس تہوار کے باعث بے شمار افراد چھتوں سے گرکر، پتنگ کی ڈورپھنسنے ، بجلی کی تاروں کے گِرنے یا مقابلہ بازی کے دوران آپس میں لڑجھگڑکر موت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، نہ جانے کتنے ہی بچّوں کی شہ رَگیں تیز ڈور سے کٹ جاتی ہیں، بیسیوں افراد ٹانگیں یابازو تُڑواکر عمربھر کے لئے اَپاہج اور والدَین اور دیگر اہلِ خانہ کیلئے وبالِ جان بن جاتے ہیں اورکئی ماں باپ اپنے بچّے کو اس منحوس تہوارکی نَذرکر کے پوری زندگی کے لیے دل پراولادکی جُدائی کاداغ لیے پھرتے ہیں۔ اہم شخصیتوں کے علاوہ غیرملکی سفیروں کوبھی مدعُو کر کے پتنگ بازی کے نظارے کی زحمت دی جاتی ہے اوروہ لوگ اس قوم کی ان کارستانیوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں کہ اس قوم کابچّہ بچّہ ہزاروں کا مقروض ہے لیکن یہ قوم اپنے ملک کوبچانے کے بجائے کروڑوں روپے پتنگ بازی کی نذر کر رہی ہے۔ الغرض نفس وشیطان کی چال میں آکر بے شمار مسلمان اپنا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ بسااوقات اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سبھی مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطافرمائے اور ان فضول و بیہودہ کاموں