بسنت میلے اورپتنگ بازی کی آفات
عرض:بَسَنْت منانے اور اس میں پتنگ با زی کرنے کے با رے میں کچھ ارشاد فرما دیجیے۔
ارشاد:بَسَنْت میلا یہ ایک گستاخِ رسول کی یادگار ہے اسے جاری کرنے والے مرکھپ کر اپنے کیفرِ کردار کو پہنچ گئے مگر افسوس !صد کروڑ افسوس !اپنی یقینی اور اٹل موت سے غافل مسلمانوں نے اسے جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا اور کررہے ہیں جس کی وجہ سے اب بھی یہ گناہوں بھرا سلسلہ تمام تر ہلاکت خیزیوں کے ساتھ اپنی نحوستیں لُٹا رہا ہے۔آج مسلمان کہلانے والے’’بَسَنْت‘‘ کے نام سے غیر مسلموں کے اس تہوارکوفخریہ طورپر بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں جس میں پتنگ بازی کے خوب خوب مقابلے ہوتے ہیں،ایک دوسرے کی ڈَوریں کاٹی اورلوٹی جاتی ہیں، مکانوں کی چھتوں پر ڈیک لگا کرفُحش گانے چلائے جاتے ہیں۔ پتنگ کٹ جانے پر اتنی خوشی منائی جاتی ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے مل کررَقْص کرتے ہیں،مرد تو مرد خواتین بھی اس کارِگناہ میں مردوں سے پیچھے رہ جانے کو گویاخلافِ شان خیال کرتی ہیں، بڑے بڑے شہروں میں پہلے ہی سے ہوٹل اوراونچی اونچی عمارتوں کی چھتیں بک ہوجاتی ہیں، جس میں ملک کے طول و