Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 9:یقینِ کامل کی برکتیں
24 - 30
میں حرام شامل ہوگیاہے جیسے کسی کی غَصَب شُدہ زمین پرنَماز پڑھنا اور اگر مالک نہ ہوتو وہ لُقْطہ ہے یعنی پڑی پائی چیز ،واجب ہے کہ اسے مشہور کیا جائے یہاں تک کہ مالک کے ملنے کی اُمّید قَطْع(ختم) ہو۔ اس وقت وہ شخص غنی ہے تو فقیرکودیدے اور اگر فقیرہے تو اپنے صَرف (استعمال) میں لا سکتا ہے پھر جب مالک ظاہرہواور فقیرکے صرف میں آنے پرراضی نہ ہوتو اپنے پاس سے اس کا تاوان(یعنی اِسی طرح کی اتنی ہی ڈور یا اس کی رقم) دینا ہوگا۔ )1 ( 
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:’’کَنْ کَیَّا( پتنگ )اُڑانا منع اور لڑانا گناہ اوراس کالوٹنا حرام ہے۔ خود آکر گر جائے تو اسے پھاڑ ڈالے اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے تو ڈور کسی مسکین کو دے دے کہ وہ کسی جائز کام میں صرف کر لے اور خود مسکین ہو تو اپنے صرف میں لائے پھر جب معلوم ہو کہ فُلاں مسلم کی ہے اور وہ اس تصدُّق (صدقہ کرنے)یا اس مسکین کے اپنے صَرف میں لانے پر راضی نہ ہو تو دیناہوگی اور کَنْ کَیَّا( پتنگ )کا مُعاوَضہ بَہَرحال کچھ نہیں۔‘‘ (2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…1 اَحْکامِ شَرِیْعَت، حصّہ اوّل ،ص۳۷ 
 …2 فتاویٰ رضویہ،ج۲۴،ص۶۶۰،ملخصاً