پتنگ اُڑانااوراس کی ڈور لوٹنا کیسا ؟
عرض:پتنگ اُڑانا اوراس کی ڈور لوٹنا کیسا ہے؟
ارشاد:پتنگ اُڑانالَہوولعِب ہے جو کہ ناجائزہے اور اس کی ڈور لُوٹنا حرام ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سے کَنْ کَیَّا(کَنْ۔کَیْ۔یَا) یعنی پتنگ اُڑانے اوراس کی ڈور لوٹنے کے بارے میں سُوال ہواتو ارشاد فرمایا:’’کَنْ کَیَّا اُڑانالَہْو و لَعِب اور’’لہو‘‘ ناجائز ہے۔حدیث میں ہے: ’’ کُلُّ لَھْوِ الْمُسْلِمِ حَرَامٌ اِلَّا ثَلَاثَۃٌ مسلمان کے لئے کھیل کی چیزیں سوائے تین چیزوں کے سب حرام ہیں۔“ (1)ڈور لوٹنانہبٰی(لوٹ مار) اورنہبیٰ حرام ہے کہ حُضورِ پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوٹ مار سے منع فرمایا۔(2) (اس صورت میں) لوٹی ہوئی ڈَور کامالک اگر معلوم ہو تو فرض ہے کہ اسے دے دی جائے اور اگر نہ دی اور بغیر اس کی اجازت کے اس سے کپڑا سیاتو اس کپڑے کا پہننا حرام ہے، اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا پھیرناواجب ہے ا س وجہ سے کہ اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…1 سوائے تین کھیلوں کے دنیا کا ہر کھیل باطل ہے (۱) اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا(۲) اپنے گھوڑے کو شائستگی سکھانا(۳)اپنی گھر والی یعنی اہلیہ کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں جائز ہیں۔ (مستدرکِ حاکم، ج۲، ص۴۱۹،حدیث۲۵۱۳)
…2 بخاری،ج۲،ص۱۳۷، حدیث۲۴۷۴