نُبُوَّت کا 70 واں ٹکڑاہے ۔جو کوئی اچھا خواب دیکھے اُسے چا ہیے کہ اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بجا لائے اور لو گوں کے سا منے بیان کرے اور جو اِس کے علاوہ دیکھے تو اپنے خواب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ ما نگے اور کسی کے سامنے بیان نہ کرے تا کہ وہ اُسے نقصان نہ دے ۔‘‘ (1)
قرآنِ کریم، احادیثِ مبارَکہ اور بُزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کی کتابوں میں خوابوں کا بکثرت تذکِرہ ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا امام ابو القاسِم قُشَیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی نے ’’رِسالۂ قُشَیْرِیَّہ ‘‘میں ایک باب بنام ”رُؤْیَا الْقَوم“قائم کیا ہے جس میں66اَولیائے کرام کے خواب نَقْل فرمائے ہیں۔حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الوَالِی نے احیاء العلوم کی جلد4 صَفْحَہ 540تا 543 پرایک باب بنام ’’مَنَامَاتُ المَشائِخ ‘‘ قائم کیا ہے جس میں انہوں نے 49 خواب نَقْل کئے ہیں۔ اسی طرح ’’حَیاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘ (مطبوعہ مکتبۂ نَبَویّہ گنج بخش روڈ مرکز الاولیاء لاہور ) کے صَفْحَہ نمبر 424تا 432 پرمیر ے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت،مُجَدِّدِ دین ومِلّت،مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے 14خواب خود آپ ہی کی زَبانی مَروی ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مُسْندِ احمد، ج۲،ص۵۰۲، حدیث۶۲۲۳